3,321

اللہ کے پسندیدہ لوگ


إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ –
اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے-﴿البقرة ۲۲۲﴾

 إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ

اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے، ان سے محبت کرتا ہے اور آیندہ بھی محبت کرتا رہے گا۔ جب تک تم دائرۂ توبہ میں رہو گے، تب تک میرے دائرۂ محبوبیت میں رہو گے لیکن جو توبہ چھوڑ دے گا تو محبوبیت کے دائرہ سے اس کا خروج ہو جائے گا اس لیے ماضی میں جو غلطیاں کر چکے ان سے توبہ کر لو تو میرے محبوب ہوجاؤ گے لیکن آیندہ کے لیے اگر شیطان وسوسہ ڈالے کہ تم پھر یہ خطا کرو گےتو آیندہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں امید دلا دی کہ ہم ایسا صیغہ نازل کر رہے ہیں یعنی مضارع جس میں حال بھی ہے اور مستقبل بھی لہٰذا تم گھبرانا مت کہ اگر آیندہ بھی تم سے خطا ہو گی اور تم معافی مانگو گے تو ہم تمہاری توبہ کو قبول کریں گے اور دائرۂ محبوبیت سے تمہارا خروج نہیں ہونے دیں گے۔ ہم تمہاری خطاؤں کی معافی کے ذمہ دار اور کفیل ہیں کیوں کہ توبہ کرنے والوں سے ہم محبت کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم تم سے محبت کرتے ہیں اور آیندہ بھی محبت کرتے رہیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ محبت میں سب کچھ ہے، کسی نعمت کا اس سے خروج نہیں ہے، ہر نعمت اس میں شامل ہے، اس میں رحمت بھی شامل ہے، مغفرت بھی شامل ہے، رزّاقیت بھی شامل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مُتَطَھِّرِیْنَ فرمایا یعنی جس طرح سے میں تو بہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہوں اسی طرح مُتَطَہِّرِیْنَ یعنی جو بہ تکلف گناہ سے بچتے ہیں، گناہ سے بچنے میں تکالیف اُٹھاتے ہیں، گناہ چھوڑنے کا دل پر غم برداشت کرتے ہیں، اپنی حرام خواہش کا خون کرنے کی مشقت جھیلتے ہیں ان کو بھی میں اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو مطلب یہ ہوا کہ گناہوں کی نجاستوں سے پاک رہنے میں تم کو تکلیف اُٹھانی پڑے، کلفت پیش آئے تو اس سے دریغ نہ کرنا۔ جی نہیں چاہتا گناہ سے بچنے کو، مگر تم میری راہ میں تکلیف اٹھا لو۔ مجھے خوش کرنے کے لیے تکلیف اُٹھاؤ گے تو یہ تکلیف راہِ مولیٰ میں داخل ہو گی۔ اب تم خود فیصلہ کر لو کہ کس کی راہ میں تکلیف اٹھانے میں فائدہ ہے۔ تمہارے مزاج میں اگرچہ گناہ پسندی ہے لیکن ان سے بچنے میں تمہاری روح کو تو سکون ملتا ہے -گناہ چھوڑنے میں جو تکلیف ہو گی تمہارے نفس کو ہو گی، روح کو خوشی ہو گی اور تم روح سے زندہ ہو، نفس سے زندہ نہیں ہو۔ تمہاری گناہ کی جفا کاریاں اور بیوفائیاں سب روح کی بدولت ہیں۔ اگر میں تمہاری روح قبض کرلوں تو تم کوئی گناہ نہیں کر سکتے۔ تمہارا سببِ حیات روح ہے تو تم سببِ حیات کی کیوں فکر نہیں کرتے۔ جب تم اللہ کی نا فرمانی سے بچو گے تو کتنی حیات تم پر برس جائے گی۔ رحمۃ للعالمین صلی ﷲ علیہ وسلم کی رحمت نے جب دیکھا کہ ﷲ تعالیٰ تَوَّابِیْنَ کو اور مُتَطَہِّرِیْنَ کو محبوب رکھتے ہیں تو اُمّت کو یہ دعا سکھا دی کہ

اے ﷲ! مجھے تو بہ کرنے والوں میں اور بہ تکلف گناہوں کو چھوڑنے کی تکلیف اُٹھانے والوں میں اور غیر ﷲ کی محبت سے دل کو پاک کرنے کی مشقت جھیلنے والوں میں بنا دیجیے
آمین

Innallaha Yuhibbu u Tavvabeena Vayuhibb ul Mutataahhireen
Allah Tooba Karnay Waloon Ko Aur Pak Rehnay Waaloon Ko Pasand Farmata Hai
Surah Baqrah 222


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں