986

مجھ کو میرے وجود کی تک نہ جانئیے


مجھ کو میرے وجود کی تک نہ جانئیے
بے حد ہوں، بے حساب ہوں، بے انتہا ہوں میں

وجود کی حد تک

مثل ِ عذاب خود پہ گزرتا رہا ہوں میں
اک سانحہ ہوں، اور بہت ہی کڑا ہوں میں

مجھ کو مرے وجود کی حد تک نہ جانیئے
بے حد ہوں، بے حساب ہوں، بے انتہا ہوں میں

توڑا مجھے، تو خود کو سمیٹے گا عمر بھر
اے حسن ِ بے مثال، ترا آئینہ ہوں میں

آنکھوں میں وہ چمک نہ وہ چہرے پہ روشنی
لمحوں کے ساتھ ساتھ ہی بجھتا گیا ہوں میں

عرفان ستار

Mujh Ko Mere Wajood Ki Hud Tak Na Janiye
Be-Hud Hun, Be-Hisab Hun, Be-Inteha Hun Mein


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں