جب علم اتنا عام نہیں تھا


پرانے زمانے میں جب علم اتنا عام نہیں تھا تو جس بابے کے پاس علم ہوتا تھا اس کے پاس شفقت بھی ہوتی تھی محبت بھی ہوتی تھی۔

آپ کے مشکل سوالوں کے جواب بھی ہوتے تھے اور اگر جواب نہیں آتا تھا تو اس کے پاس وہ تھپکی ہوتی تھی جس سے سارے دکھ اور درد دور ہو جاتے تھے۔ لیکن اب اس طرح سے نہیں ہوتا۔

اشفاق احمد

اب اس طرح واقعی نہیں ہوتا- بابا اشفاق احمد نے ان الفاظ میں لوگوں کی بے حسی کے بارے میں کہا ہے پرانے وقتوں میں بزرگوں کا بہت عمل دخل ہوتا تھا وہ اپنے پیار اور خلوص دل سے لوگوں کی پریشانیاں سنتے اور ان کو اچھے مشورے اور تسلیٌ دیتے-

اب نہ تو ویسے بزرگ ہیں اور نا ہی ویسے لوگ- آج کے لوگ خود غرضی اور مفاد پرستی میں ڈوبے ہوے ہیں- اب ہر شخص صرف اپنا فائدہ سوچتا ہے باقی کچھ نہیں- پھر وہ دوسرے شخص کا کس طرح ہمدرد ہو سکتا ہے- ہم صرف اور صرف اپنے لئے جی ر ہے ہیں۔ بے شک اپنے لگتے ہوں وہ بھی پرائے لگتے ہیں
۔
اب تو جھوٹ اور غلط بیانی بھی عام لگتی ہے- آج کے انسان نجانے کیوں اتنے بے حس ہوتے جا رہے ہیں کہ ہمیں تب تک دوسروں کی تکلیفوں کا اندازہ نہیں ہوتا جب تک ہم خود اس تکلیف کا سامنا نا کر لیں ۔

Puranay Zmany Mein Jab Ilm Itna Aam Nhi Tha To Jis Babay Kay Pas Ilm Hota Tha Us Kay Pas Shafqt Bhi Hoti Thi Muhabbt Bhi Hoti Thi. Ap Kay Mushkil Swalon Kay Jwab Bhi Hotay Thay Aur Agr Jwab Nahi Ata Tha To Us kay Pas Wo Thapki Hoti Thi Jis Say Saray Dukh Aur Dard Door Ho Jatay Thay. Lekin Ab Is Trah Say Nahi Hota


اپنا تبصرہ بھیجیں