1,199

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے


سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں‌بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فرازؔ اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

احمد فرازؔ

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

Shikwa Zulmat-e-Shab Say To Kahin Behtar Tha
Apnay Hisay Ki Koyi Shama Jalaty Jatay


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں