952

ہر شخص سانحہ ہے

ہر شخص سانحہ ہے
ہر ذات اک کہانی

کہانی

بڑھاپے میں قدم رکھنے والا ہر انسان چاہے خود کچھ بتاے نہ بتاے لیکن اس کا چہرہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہوتا ہے ایک عمر کا پچھتاوا۔۔۔ ایک عمر گزر جانے کی بے یقینی۔۔۔

ہر آنے والا کل گزرے ہوے کل کی یاد دلاتا ہے اور ہم آج سوچتے ہیں ایک بھرپور زندگی کا، سب کچھ فتح کر لینے کا۔۔۔ اور کچھ لوگ کر بھی لیتے ہیں لیکن کس لیے ؟ ایک دن بیٹھ کر یاد کرنے کےلئے۔۔۔اپنی مظبوطی کو کمزوری میں بدلتے دیکھنے کے لیے۔۔۔۔؟

میں نے بوڑھی آنکھوں میں ایک لمبی عمر کو ایک پل میں گزر جاتے دیکھا ہے۔

زندگی تغّیُر کا دوسرا نام ہے جس کی آج بادشاہت ہے کل فقیر ہے اور جو آج فقیر اس کی کل بادشاہت۔۔۔

Her Shakhs Saaneha Hay
Her Zaat Ik Kahani Hay

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں