4,107

لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا سوچتے ہیں


کیا پوچھتے ہو تیرے ہجر میں کیا سوچتے ہیں
سجا کے تم کو نگاہوں میں صدا سوچتے ہیں

تیرے وجود کو چھو کر جو گزری ہے کبھی
ہم اس ہوا کو بھی جنت کی ہوا سوچتے ہیں

یہ اپنے ظرف کی حد ہے کے فقط تیرا لحاظ
تیرے ستم کو مقدر کا لکھا سوچتے ہیں

میرا اس شہر عداوت میں بسیرا ہے جہاں
لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا سوچتے ہیں

کس قدر ہم بھی ہیں نادان محبت میں
تیرے اخلاص کو ہم تیری وفا سوچتے ہیں

احمد فراز

Mera Is Sheher e Adawat Mein Baseera Hai Jahan
Loog Sajdoon Mein Bhi Loogoon Ka Bura Sochtay Hain


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں