1,121

اِک دن ایسا آئے گا – موت


ماٹی کہے کمہار سے، تو کیا روندے موئے
اِک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

اِک دن ایسا آئے گا

ہر جان دار نے بل آخر موت کا ذائقہ چکھنا ہے،اس لئے دنیاوی مصرفیات کے ساتھ ساتھ ہمیں آخرت کی تیاری بھی کرنی چاہیے

موت ،زندگی کا لازمی حصہ ہے اس سے فرار کسی طور ممکن نہیں ،خوش بخت ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنی موت سے پہلے آخرت کیلئے نیک کمائی کی اور دنیا میں اپنی نیکیوںکو بطور صدقہ جاریہ چھوڑ گئے

Maatti Kahay Kumhaar Say, Tu Kiya Roonday Moay
Ik Din Aisa Aay Ga Mein Roondun Gi Toay


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں