گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیر


ملاقات اور میل ملاپ میں فاصلہ رکھا جائے جس سے محبت بڑھ سکتی ہے، اس کے برعکس مسلسل ملاقات اور بار بار کا میل ملاپ اختلاف و دوری پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے، غالباً حضرت امیر مینائی کا شعر ہے یہ احتیاط کا درس دیتا ہے۔

گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیر
قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جان

یہ شعر صرف ملنے ملانے کے معاملات تک محدود نہیں۔ کسی بھی معاملے میں زیادتی واقع ہو رہی ہو تو یہ شعر اور بالخصوص مصرعِ ثانی یاد آئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

انسان کی زندگی کی کامیابی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ ہر ہر قدم پر احتیاط ملحوظ رکھے جب بھی کوئی قدم اٹھایا جائے سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے، کسی سے کوئی معاملہ کرنا ہو تو پورے سوچ بچار کے ساتھ کیا جائے، گفتگو میں، رکھ رکھاوُ میں، برتاوُ میں، غرض طرز زندگی کے سارے پہلووُں میں احتیاط کو پیش نظر رکھا جائے، کہیں زبان کھولنی ہو تو وہاں بھی احتیاط کی شدید ضرورت ہے، احتیاط کہتے ہیں بچاوُ کرنے کو، ہوشیاری برتنے کو، چوکسی ملحوظ رکھنے کو اور دور اندیشی اختیار کرنے کو، توجہ اور حَزم سے کام لینے کو، روک تھام کرلینے کو، بصیرت اور عاقبت اندیشی کو بھی احتیاط کہتے ہیں، حفاظتی تدابیر اختیار کرنا انسانوں کے شر اور شیاطین کے شر سے اپنے آپ کو بچانے کی سعی کرنا بھی احتیاط میں داخل ہے۔

قدر کھو دیتا ہے

Gahay Gahay Ki Mulaqat Hi Achi Hay Ameer
Qadr Kho Deta Her Roz Ka Ana Jana


اپنا تبصرہ بھیجیں