957

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

گۓ دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں

ستاروں سے آگے جہاں۔۔۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں

قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں

اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں

علامہ محمد اقبال

Gaye Din Keh Tanha Tha Mein Anjmn Men
Yahan Ab Meray Raaz Dan Aur Bhi Hein

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں