اولاد ایک فتنہ


ذرا سی طبیعت کیا ناساز ہوئی میری
بچے وکیل کو بلا لائے طبیب سے پہلے

اولاد ایک فتنہ

باپ وفا کا پیکر ، روشن مینار ،صبح کا ستارہ ، بہادر محافظ، سورج کی پہلی کرن ، اندھیرے میں اُجالا ، چمن میں ایسا پھول جس کی خوشبو سے سارا گلزار مہکتا ہے۔ اگر ماں بچے کو بولنا سکھاتی ہے تو باپ بچے کی اُنگلی پکڑ کرچلنا سکھاتا ہے اور اُسے سکول چھوڑ کر آتا ہے تاکہ اُس کا بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکے ۔باپ کی اولاد سے محبت کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ ایک باپ اپنی اولاد کی خاطر شب و روز کمانے میں گزار دیتا ہے۔

اپنی خوشیاں،راحتیں،اپنی جوانی کو اولاد کیلئے اچھا مستقبل دینے کی تگ و دو میں جھونک دیتا ہے۔بسا اوقات اپنی اولاد کی خاطر نفع و نقصان کی پرواہ کئے بغیر دنیا سے ٹکرا جاتا ہے اس کی ذراسی کی تکلیف پر باپ اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہوجاتا ہے اگر کوئی اولاد کو انگلی بھی لگادے تو اسکی جان لینے پر اترجاتا ہے- آج کوئي جائيداد کے ليئے والدين کو اولڈ ہوم ميں داخل کررہا ہے ان کے مرنے کا انتظار کت رہے ہیں ۔۔ پھر کہتے ہيں کہ ہماری دعائيں کيوں قبول نہيں ہوتی ۔۔؟ پريشانی کيوں آرہی ہے ؟ برکت کيوں نہيں ہورہی ؟

جیسا ہم آج اپنے والدین کے ساتھ کریں گے،کل کو وہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہو گا،
“خدارا” اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور ان کا خیال رکھو، والدین سے ہی ہماری زندگی ہے ،اور انھیں سے وابستہ ہماری خوشیاں ہیں…!

اللہ رب العزت ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے…!
آمین یا رب العالمین

Zara Si Tabiyat Kiya Nasaaz Hui Meri
Bachay Wakeel Ko Bula Lay Tabeeb Say Pehle


اولاد ایک فتنہ” ایک تبصرہ

  1. ‏بڑا میٹھا سا زہر ہے تیری یادوں میں____!

    ‏ساری عمر گزر جائے گی مجھے مرتے مرتے۔۔۔۔۔۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں