736

تنہائی میں گھرا


کسی وجہ سے لوگوں سے دور ہونا، خود کو لوگوں سے الگ تھلگ کر لینا تنہائی ہے۔

تنہائی اور احساسِ تنہائی دو مختلف چیزیں ہیں۔
احساسِ تنہائی میں انسان لوگوں کی بھیڑ میں بھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کچھ لوگ کسی کو کھو دینے کے بعد یا تعلقات میں برے تجربات کے نتیجے میں خود کو محدود کر لیتے ہیں۔ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی فرد اپنے آپ کو سماجی طور پر ٹھکرایا ہوا اور دوسروں سے علیحدہ متصور کرنے لگے، اسے دوست احباب، رشتہ داروں کی کمی محسوس ہونے لگے۔ ایسے انسان کے لیے تنہائی کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ میرا دنیا میں کوئی اپنا نہیں ہے اور میں بھی کسی کا نہیں ہوں۔

جب انسان اندر سے صحراؤں میں بھٹک رہا ہو تو
شہروں کا ہجوم بھی اس کی تنہائی دور نہیں کر سکتا

تنہائی قدرتی ہو یا خودساختہ ہر صورت میں ذہنی تکلیف کا باعث ہوتی ہے۔ بعض لوگ اپنی شرمیلی فطرت کی وجہ سے بھی تنہا رہتے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں جھجھکتے ہیں۔ طویل عرصے تک تنہا رہنا انسان کی ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، وہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کی شخصیت میں ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔

تنہائی میں گھرا

احساسِ تنہائی ایسی درد بھری اور تکلیف دہ ذہنی کیفیت ہے جس میں مبتلا شخص اپنے آپ کو سماجی زنجیر سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے اور یہ سوچنے لگ جاتا ہے کہ اس کی بنیادی اور ضروری خواہشات پوری کرنے میں کوئی بھی دلچسپی نہیں لے رہا۔ جب احساسِ تنہائی کسی شخص کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کا کوئی چاہنے والا یا ہمدرد نہیں ہے، اسے یوں لگتا ہے جیسے پوری دنیا میں کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں جس کے ساتھ وہ اپنے احساسات اور دکھ درد بانٹ سکے۔

اگر آپ ایسی کیفیت کا شکار ہیں تو آپ کو احساسِ تنہائی سے نکلنے کے لیے خود ہمت اور کوشش کرنا ہو گی، یہ آپ خود ہیں جس نے تنہائی سے دور ہونے کا راستہ تلاش کرنا ہے، خود سے بڑھ کر نہ کوئی آپ کا ہمدرد ہے اور نہ ہی آپ کی بہتری کا خواہاں ہو سکتا ہے، اس لیے اپنے آپ کو تنہائی کی نذر نہ ہونے دیں کیونکہ آپ کی جان کا آپ پر سب سے زیادہ حق ہے، اپنی بھلائی اور ذہنی صحت کو ملحوظ رکھیں اور خود کو تنہا نہ چھوڑیں-

Tanhai Mein Ghira Insan


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں