976

١٤ اگست صرف ترا نام رہ گیا

١٤ اگست بس ترا نام رہ گیا

ﮐﯿﺴﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ؟
ﺁﺯﺍﺩ ﺗﻮ ﮨﻮﮰ ﺗﮭﮯ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﻟﮓ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﮐﮯ ﺗﮩﺖ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺟﺪﻭﺟﮩﺪ ﮐﯽ ﺑﻨﺎ ﭘﺮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﻠﮏ ﺁﺯﺍﺩ ﮬﻮﺍ ﻭﮦ ﺭﺍﺕ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﺭﺍﺕ ﺗﮭﯽ ۔ پر اب ملک کدھر جا رہا ہے اور سدھار کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی، بلوچستان کے صوبے کو لگتا ہے جان بوجھ کر مسائلستان بنا دیا گیا ہے۔ یہ ملک جو رہ گیا ہے دراصل ہمارا ہے، ہمارا جینا مرنا یہیں ہے اسی زمین کا رزق ہمیں بنتا ہے۔ لہٰذا اس ملک کو بچانے میں سب سے پہلی ذمے داری ہماری اور آخری بھی ہماری ہے۔ اب مسلسل جاگتے رہنے کا وقت ہے۔

جالبؔ نے 1971ء کے حوالے سے لکھا تھا:

بہتے لہو میں سب ترا مفہوم بہہ گیا
١٤ اگست صرف ترا نام رہ گیا

جلنا ہے غم کی آگ میں ہم کو تمام عمر
بجھتا ہوا چراغ‘ سر شام کہہ گیا

ہوتا اگر پہاڑ تو لاتا نہ تاب غم
جو رنج اس نگر میں یہ دل ہنس کے سہہ گیا

گزرے ہیں اس دیار میں یوں اپنے روز و شب
خورشید بجھ گیا‘ کبھی مہتاب گہہ گیا

مجھ سے خفیف ہیں‘ مرے ہمعصر اس لیے
میں داستان عہد ستم کھل کے کہہ گیا

Behtay Luhu Mein Sab Tera Mufhoom Beh Gaya
14August Sirf Tera Naam Reh Gaya

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں