الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کریں


آپ کے الفاظ!!!!
آپ کی تربیت مزاج اور خاندان کا پتا دیتے ہیں

الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کریں



ایک زمانہ تھا جب ہر شے خالص ہوا کرتی تھی۔ سوچ بھی خالص اور جذبے بھی سچے، خالص سوچ اور جذبے کا مرکب تحریر پڑھنے والے کے اندر تک اتر جاتی تھی اور ہلچل مچا دیتی تھی۔ مگر اب حالات و واقعات بدل چکے ہیں، الفاظ چاہئیں ‘ چاہے جذبات سے عاری ہی کیوں نا ہوں۔ لفظوں کی گونج ہے شور ہے مگر کچھ سمجھ نہیں ہے۔

ہمارے الفاظ ہماری شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں ہماری تربیت اور خاندان سب کا پتہ دیتے ہیں اس لیے ہمیشہ سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے

ہم لفظوں کی مدد سے اپنی باتیں دوسروں تک منتقل کرتے ہیں۔ یہ لفظ اور آواز مل کر بات کی تشکیل کرتے ہیں۔ الفاظ ہمارے ساتھ ساتھ سامنے والے کی بھی اہمیت ظاہر کرتے ہیں یہ الفاظ ہی ہوا کرتے تھے جن کی بنیادوں پر تحریکیں چلتی تھیں، ان لفظوں ہی کی مدد سے انقلابی شاعری ہوتی تھی، بڑے بڑے مقرر ہوتے تھے۔ سوئی ہوئی مردہ قوموں میں ان الفاظوں کی مرہونِ منت روح پھونکی گئی اور ان قوموں نے تاریخ رقم کی۔ ایسی ہی ایک قوم تھی جس نے پاکستان تشکیل دیا ایک خواب کو حقیقت بنایا۔ اب الفاظ بکتے ہیں، بے روح، بے اثر، ایک شور ہر وقت ہماری سماع خراشی کئے رکھتا ہے۔ ایک لفظ سنائی نہیں دیتا۔

گفتگو انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتی ہے۔ الفاظ میں انسان کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ گفتگو انسان کے احساسات و جذبات کا زبان سے اظہار کرنے کا نام ہے۔ بہترین الفاظ کا چناؤ ہی انسان کو عزت و وقار کے بلند مرتبے پر بٹھا دیتا ہے اور نامناسب الفاظ انسان کو بلند ایوان میں بھی کم تر اور کم حیثیت بنا دیتے ہیں۔وہ کسی کے اچھے الفاظ بھی ہو سکتے ہیں اور بُرے بھی جیسے ٹیپو سلطان کا یہ جملہ آج بھی اُس کی وجاہت کی عکاسی کرتا ہے:


”شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے”

ہر انسان کے پاس اچھے برے تمام الفاظ کا ذخیرہ ہوتاہے لیکن اُن کا مناسب استعمال اسے عقل مندی کے درجوں پر پہنچاتاہے۔ کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے ادا ہونے والا لفظ کبھی واپس نہیں ہو سکتے۔



Aap Kay Alfaz – Aap Ki Taarbiat
Mizaj aur Khandan Ka pta Detay Hen


اپنا تبصرہ بھیجیں