2,875

سب کے دل سے اتر گیا ہوں میں


اک ہنر ہے جو کر گیا ہوں میں
سب کے دل سے اتر گیا ہوں میں

کیسے اپنی ہنسی کو ضبط کروں
سن رہا ہوں کہ گھر گیا ہوں میں

کیا بتاؤں کہ مر نہیں پاتا
جیتے جی جب سے مر گیا ہوں میں

اب ہے بس اپنا سامنا در پیش
ہر کسی سے گزر گیا ہوں میں

وہی ناز و ادا وہی غمزے
سر بہ سر آپ پر گیا ہوں میں

عجب الزام ہوں زمانے کا
کہ یہاں سب کے سر گیا ہوں میں

کبھی خود تک پہنچ نہیں پایا
جب کہ واں عمر بھر گیا ہوں میں

تم سے جاناں ملا ہوں جس دن سے
بے طرح خود سے ڈر گیا ہوں میں

کوئے جاناں میں سوگ برپا ہے
کہ اچانک سدھر گیا ہوں میں

جون ایلیا

Ik Hunar Hai Jo Kar Giya Hun Mein
Sab Kay Dill Say Utar Giya Hun Mein
Jaun Elia


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں