زندگی اب تیری رفتار سے ڈر لگتا ہے


اپنے بالوں کی سفیدی پہ سہم جاتا ہوں
زندگی اب تیری رفتار سے ڈر لگتا ہے

سہم جاتا ہوں

اب تو ہر ایک اداکار سے ڈر لگتا ہے

مجھ کو دشمن سے نہیں یار سے ڈر لگتا ہے

کیسے دشمن کے مقابل وہ ٹھہر پائے گا

جس کو ٹوٹی ہوئی تلوار سے ڈر لگتا ہے

وہ جو پازیب کی جھنکار کا شیدائی ہو

اس کو تلوار کی جھنکار سے ڈر لگتا ہے

مجھ کو بالوں کی سفیدی نے خبردار کیا

زندگی اب تری رفتار سے ڈر لگتا ہے

کر دیں مصلوب انہیں لاکھ زمانے والے

حق پرستوں کو کہاں دار سے ڈر لگتا ہے

وہ کسی طرح بھی تیراک نہیں ہو سکتا

دور سے ہی جسے منجدھار سے ڈر لگتا ہے

میرے آنگن میں ہے وحشت کا بسیرا افضلؔ

مجھ کو گھر کے در و دیوار سے ڈر لگتا ہے

افضل الہ آبادی

Apnay Balon Ki Sufaidi Pe Sehm Jata Hoon
Zindagi Ab Teri Raftar Say Darr Lgta Hay


اپنا تبصرہ بھیجیں