2,351

درد انسان نہیں دیتا۔۔۔


درد انسان نہیں دیتا۔۔۔
انسان سے وابستہ اُمیدیں دیتی ہیں

درد انسان نہیں دیتا۔۔۔

انسان اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیقات میں سے ایک ہے ۔ خطہ زمین پر پائی جانے والی یہ واحد مادی مخلوق ہے جس کوسب سے زیادہ اختیارات دیے گئے ۔ حتیٰ کہ اللہ سے محبت اور اس کی اطاعت کرنے کا اختیار بھی انسان پر چھوڑ دیا گیا۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان بہت سے اختیارات رکھنے کے باوجود بڑ ا بے اختیاراور کمزور ہے ۔

اللہ اورانسان کے رشتے کے علاوہ اور بھی رشتے تخلیق کر دیے گئے جیسا کہ ماں باپ کا اولادسے رشتہ، بہن کا بھائی سے رشتہ۔ اور پھر دنیا میں رشتے بڑ ھتے چلے گئے اور رشتوں کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ امیدیں بھی بڑ ھتی گئیں ۔مگر جب امیدیں دم توڑ نے لگیں تو اس کے ساتھ ہی رشتے بھی دم توڑ نے لگے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر رشتوں کے ساتھ امیدیں لگانا چھوڑ دیں تو رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں مشہور قول ہے.

لوگ سبھی اچھے ہوتے ہیں، بس خدا برا وقت نہ لاۓ

اللہ نے کہا ہے کہ مایوسی کفر ہے ۔ اللہ چاہتا ہے کہ صرف اسی سے امید لگائی جائے ۔کیونکہ انسان اتنا مکمل اور طاقت ور نہیں کہ اپنے ساتھ وابستہ تمام امیدوں کو پورا کر سکے ۔ دنیوی رشتے بنتے ٹوٹنے رہتے ہیں لیکن ایک رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا اور وہ اللہ اور انسان کا رشتہ ہے ۔کتنی ہی نافرمانی کے بعد جب انسان اللہ کی طرف ایک قدم بھی آگے بڑ ھاتا ہے تو اللہ اس کی طرف دو قدم آگے بڑ ھاتا ہے ۔ دنیوی رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ۔انسان کا اللہ سے رشتہ نہیں ٹوٹتا۔ اس کی وجہ وہ یقین ہے جو انسان اللہ پر کرتا ہے ۔ انسان جانتا ہے کہ اگر اللہ چاہے تو میری ہر امید اور دعا پوری کر سکتا ہے جیسا کہ حضرت علی نے فرمایا کہ ’’ اللہ سے جو چا ہو مانگو کیونکہ ممکن یا نا ممکن تو ہمارے نزدیک ہے اللہ کے نزدیک تو کچھ بھی ناممکن نہیں ۔۔‘‘

اس لئے اگر اس دنیا میں سچی خوشی چاہیے تو اللہ سے امیدیں لگانی چاہئیں اور انسانوں سے امیدیں کم کر دینی چاہئیں اور جوامیدیں انسانوں سے وابستہ کریں ، وہ بھی اللہ سے دعا کی صورت میں مانگنی چاہئیں اور اگر ہمارے جیسے نامکمل انسان ہماری امیدوں کو پورا نہ کر پائیں تو اسے قدرت کی حکمت سمجھ کر قبول کر لینا چاہیے اور دوسروں سے کیے گئے اچھے سلوک کا ریوارڈاللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہیے کیونکہ ایک نا مکمل اور کمزور اور محدود اختیارات کا حامل انسان دوسرے انسان کی ساری امیدوں کو پورا نہیں کر سکتا ۔اس لیے آس اسی سے لگانی چاہیے جس کے پاس دینے کا پوراپورا اختیار ہے ۔

Dard Insan Nahi Deta
Insan Say Wabasta Umeeden Deti Hen


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں