920

ہم تماشائی


ہے تعجب کے ہم تماشائی
کچھ نہیں سیکھتے تماشوں سے

تعجب

اسی کی دہائی کے آخر کی بات ہے۔ میرے ابا لندن میں چند دن گزار کر واپس لوٹے تھے. وہ میرے لیے کھلونے لائے- کھلونے تو انہوں نے مجھے اسی وقت تھما دیے- مجھے بہت حیرت ہوئی جب انہوں نے مجھےاس کار کے ریموٹ میں سیل ڈال کر مجھے اسے چلا کر دکھایا۔ یہ پہلی کار تھی جسے میں اوپر تخت پر بیٹھ کر چلا سکتا تھا ورنہ پیچھے کھینچنے پر آگے کو دوڑنے والی گاڑیاں جلد خراب ہو جاتی تھیں اور پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ان کے ساتھ ساتھ گھسٹنا پڑتا تھا۔یہ گاڑی میرے ریموٹ پر لگے ہینڈل کو گھمانے پر کبھی دائیں کبھی بائیں مڑ جاتی تھی اور گھوڑے کے سموں کی طرح اپنے اگلے پہیے اٹھا کر صرف پچھلے پہیوں پر کھڑی بھی ہو جاتی تھی۔

اس کار میں میری دلچسپی اسی رات ختم ہو گئی کیوں کہ ابا کے پاس لندن کے بارے ایسے بہت سے قصے تھے جو کار سے زیادہ انوکھے تھے۔ وہ قصے انہوں نے اس رات اور آنے والی کئی راتوں میں مجھے اپنے برابر سلاتے ہوئے سنائے۔ان میں سب سے دلچسپ قصہ سناتے ہوئے ابّی نے مادام تساؤ کے میوزیم کی تصویریں بھی دکھائی تھیں ۔ میں موم کے ان مجسموں کو مجسمہ ماننے کو تیار نہیں تھا۔ میں نے پتھر کے بت تو دیکھ رکھے تھے لیکن بالکل زندہ انسانوں جیسے مجسمے اور وہ بھی موم کے، میں حیران رہ گیا تھا۔

موم کے مجسمے تو میں نے اب بھی نہیں دیکھے کہ ریموٹ کنٹرول کار سے اپنی چھوٹی سی کار تک تو میں آگیا ہوں لیکن لندن جانے کا موقع نہیں ملا۔ سنا ہے پاکستاں میں کوئی مادام تساؤ کا استاد پیدا ہوا ہے جس نے اپنے مجسمے بیچ بازار نمائش کے لئے رکھ رکھے ہیں۔لیکن مجسمے بول اور چل پھر کیسے سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے میرے بچپن کی کار کی طرح اب ریموٹ کنٹرول مجسمے بننے لگے ہوں۔ دور کوئی تخت پر بیٹھا بٹن دباتا ہو- مادام تساؤ کی طرح اس جگہ بھی بہت رش ہے گھنٹوں لوگ کھڑے رہتے ہیں تب ایک ریموٹ کنٹرول مجسمہ اپنا شو دکھاتا ہے اور پھر واپس ڈبے میں۔ ہم مڈل کلاس لوگ بھی عجیب ہیں بڑے نہیں ہوتے، ہو بھی جایئں تو کھلونوں سے بہل جاتے ہیں۔ یونہی تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ مجسموں کو انسان سمجھ لیتے ہیں چاہی ان میں بھس ہی کیوں نا بھرا ہوا ہو۔ میں آج بھی وہی بے صبرا بچہ ہوں جو ان مجسوں کا تماشا ختم ہونے کا منتظر ہے شاید پتا چل سکے ریموٹ کس کے پاس ہے سیل کوں ڈالتا ہے اور بھس بھرے مجسمے تماشا کیسے دکھاتے ہیں۔ یہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہو گا۔ تماشا ختم ہونے کا انتظار ہوتا ہے پر ان تماشوں سے ہم کوئی سبق نہیں لیتے…

Hai Taajub Kay Hum Tamashai
Kuch Nahin Seekhaty Tamashoon Say


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں