زندگی کی حقیقت


کبھی ہم بھی اپ جیسے ہوا کرتے تھے
اور جلد آپ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے

زندگی کی حقیقت

زندگی کی حقیقت
زندگی کسے پیاری نہیں ہوتی، ہر فرد کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ طویل عرصے تک زندہ رہے اور زندگی کی تما م نعمتوں سے لطف اٹھائے۔ ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ زندگی کی تمام آسائشیں اور بہت سا مال و متاع اس کے پاس ہو۔ ان سب کے حصول کے لیے انسان کو بے پناہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ دن رات ایک کرنا پڑتا ہے، اتنی مصروفیت کہ اپنا ہوش تک نہیں رہتا- اگر انسان اپنی من پسند تمام چیزیں حاصل بھی کرلیتا ہے اور لوگ اسے کام یاب قرار دے دیتے ہیں تو پھر۔۔۔ ؟ آخر ایک دن اسے مرجانا ہے۔ تب یہ معلوم ہوگا کہ

بعد مرنے کے ہم پہ یہ عقدہ کھلا
جو کچھ دیکھا خواب تھا، جو سنا افسانہ تھا

انسان دنیا کی لذت میں اعمال بد اور موت وغیرہ بھول جاتا ہے اور پھر اچانک موت آجاتی ہے۔جو آج مر چکے ہیں وہ کل ہماری ہی طرح تھے- اور زندگی کی حقیقت یہ ہے کے بہت جلد ہم بھی ان جیسے ہونگے- پر انسان دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر موت سے غافل ہوا بیٹھا ہے-

مولانا روم سے کسی نے پوچھا کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے؟
مولانا روم نے فرمایا،دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل کی طرف جاتا ہے اس نے دیکھا کہ اس کے پیچھے شیر آرہا ہے وہ بھاگا جب تھک گیا تو دیکھا کہ سامنے ایک گڑھا ہے اس نے چاہا کہ گڑھے میں چھلانگ لگا کر جان بچائے لیکن گڑھے میں ایک خوفناک سانپ نظر آیا اب آگے سانپ اور پیچھے شیرکا خوف اتنے میں ایک درخت کی شاخ نظر آئی وہ درخت پر چڑھ گیا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ درخت کی جڑ کو کالا چوہا کاٹ رہا ہے وہ بہت خائف ہوا کہ تھوڑی دیر میں درخت کی جڑ کٹے گی پھر گر پڑوں گا پھر شیرکا لقمہ بننے میں دیر نہیں۔ اتفاق سے اسے ایک شہد کا چھتہ نظر آیا۔وہ اس شہد شیریں کو پینے میں اتنا مشغول ہوا کہ نہ ڈر رہا سانپ کا اور نہ شیر کا۔اتنے میں درخت کی جڑ کٹ گئی وہ نیچے گر پڑا۔شیر نے اسے چیر پھاڑ کر گڑھے میں گرا دیا اور وہ سانپ کی خوارک بن گیا۔ جنگل سے مراد یہ دنیا ،شیر سے مراد یہ موت ہے جو انسان کے پیچھے لگی رہتی ہے،گڑھا قبر ہے ،چوہا دن اور رات ہیں،درخت عمر ہے اور شہد دنیا ئے فانی سے غافل ہو کر دینے والی لذت ہے۔

Kbhi Hum Bhi Ap Jesay Hua Krtay Thay
Or Jald Ap Bhi Hum Jesay Ho Jaen Gay


اپنا تبصرہ بھیجیں