تین ازکار


ماضی کے لئے “استغفر الله”
حال کے لئے “الحمدللہ ”
مستقبل کے لئے “ان شا الله ”

“استغفر الله”

((وَاسْتَغْفِرِ اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْراً رَّحِیْماً))[النسائ:۱۰۶]
’’اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو!بے شک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا ،مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘
((فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّاباً))[النصر:۳]
’’تو اپنے رب کی تسبیح کرحمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنھاسے روایت ہے کہ سورت نصرمیں ((فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ اِنَّہٗ کَانَ تَوَّاباً)) کے نزول کے بعد نبی کریم ﷺ اپنی ہر نماز میں ’’سبحانک اللھم وبحمدک، اللھم اغفرلی‘‘پڑھا کرتے تھے۔[بخاری]

“الحمدللہ”

یعنی اللہ کی نعمتوں پر اُس کا شکر بجا لانا. اللہ نے جو جو نعمتیں ہمیں دی ہیں ان کا ذکر بھی کرنا ہے اور اس پر اللہ کا شکر بھی ادا کرنا ہے- جیسے سورۃ الضحیٰ میں فرمایا: وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثۡ ﴿٪۱۱﴾ ’’اور (لوگوں سے) اپنے رب کی نعمتوں کا تذکرہ بھی کرتے رہا کریں(کہ یہ بھی شکرگزاری کا ایک طریقہ ہے).‘‘
اس ضمن میں یہ بھی یاد رہے کہ قرآن مجید اللہ ربّ العزت کی بنی نوعِ انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے.سورۃ الکہف کے آغاز میں فرمایا: اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰی عَبۡدِہِ الۡکِتٰبَ وَ لَمۡ یَجۡعَلۡ لَّہٗ عِوَجًا ؕ﴿ٜ۱﴾ ’’کل حمد و ثنا اور کل شکر اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں کوئی کجی نہیں رکھی‘‘.اسی طرح سورۃ الفرقان کے آغاز میں فرمایا: تَبٰرَکَ الَّذِیۡ نَزَّلَ الۡفُرۡقَانَ عَلٰی عَبۡدِہٖ لِیَکُوۡنَ لِلۡعٰلَمِیۡنَ نَذِیۡرَا ۙ﴿۱﴾ ’’بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر الفرقان اُتارا تاکہ وہ تمام جہان والوں کو خبردار کرنے والا بن جائے‘‘.لہٰذا قرآن مجید کی اس عظیم نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا ہم سب پر لازم ہے.

“ان شا الله”

روز مرہ کے معاملات میں ہر لمحہ استعمال ہونا والا یہ جملہ ،جو کہ بے شمار اپنے اندر حکمتوں کو سموئے ہوئے ہے لیکن اس جملہ کے برعکس اس سے بے رغبتی اور نسیان (بھول) بہت بڑے چیلنج کا سامنا بن جاتی ہے ، تعلیم امت کی خاطر ہمیں وہ مضمون جو “ان شاء اللہ” کے تحت قرآن پاک میں موجود ہے یاد آ رہا ہے جو کہ سورہ کہف میں مذکور ہے ،ہر انسان کا عقل و قلب تحتِ قدرتِ الٰہی ہے اسی لئے اللہ پاک نے امت کو دین سکھانے کی خاطر بعض اوقات کچھ اشیاء نبی پاک ﷺ سے بھلا بھی دیں ، یا ابھی تک ان کا علم عطاء نہیں فرمایا تھا ۔ تو اسی کے پیش نظر بتانا یہ مقصود ہے کہ جب آپ ﷺ سے کفار نے سوال کیا کہ اصحاب کہف کی تعداد کتنی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کل بتاؤں گا تو آپ ﷺ “ان شاء اللہ” کہنا بھول گئے یا بھلا دئے گئے (تعلیمِ امت کی خاطر) تو پندرہ دن وحی نازل نہیں ہوئی پھر پندہ دن کے بعد حکم ہوا کہ وحی رکنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے” کَل” کے ساتھ “ان شاء اللہ” نہیں کہا اس کو ضرور کہا کریں ۔اس سے “ان شاء اللہ” کہنے کی اہمیت واضح ہوئی کہ اگر امام الانبیاء ﷺ کو بھی یہ حکم ہے کہ ہر کام میں ان شاء اللہ ضرور فرمایا کریں تو یہاں سے ہمیں اندازہ لگانا ہو گا کہ بارگاہِ رب العزت میں اس پر کتنی تاکید فرمائی گئی ہے کہ پندرہ دن وحی نازل نہیں ہوئی،اس لئے ہر انسان کو اپنی زندگی کا نصب العین بنانا ہو گا کہ ان شاء اللہ ضرور کہا کریں گے۔

اگر ہم اس کو دوسرے زاویے سے دیکھیں تو یہ ذکر الٰہی بھی ہے اور ذکر میں بھی وہ ذکر جس میں اسم ذات موجود ہے جو تمام صفاتی نام پر ہر لحاظ سے فضیلت رکھتا ہے جب کام اور وعدہ کے دوران ذکرِ الٰہی کیا جائے تو احادیث کی رو سے اس کام اور وعدہ میں دین و دنیا کی حسنات اور کام میں برکت و آسانی ہو جاتی ہے ۔

TEEN AZKAAR


اپنا تبصرہ بھیجیں