2,151

حج مبارک – لَبَّيْكَ اللَّھمَّ لَبَّيْكَ


لَبَّيْكَ اللَّھمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ
وَالنِّعْمَۃ لَكَ وَالْمُلْكَ لاَشَرِيْكَ لَكَ

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ

ﻟَﺒَّﻴْﻚَ ﺍﻟﻠَّﻬُﻢَّ ﻟَﺒَّﻴْﻚَ،
ﻟَﺒَّﻴْﻚَ ﻻَ ﺷَﺮِﻳْﻚَ ﻟَﻚَ ﻟَﺒَّﻴْﻚَ،
ﺇِﻥَّ ﺍﻟْﺤَﻤْﺪَ ﻭَﺍﻟﻨِّﻌْﻤَﺔَ ﻟَﻚَ ﻭَﺍﻟْﻤُﻠْﻚَ
ﻻَﺷَﺮِﻳْﻚَ ﻟَﻚَ
ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮞ، ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮞ،
ﺗﯿﺮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮞ۔
ﺑﮯ ﺷﮏ ﺗﻮ ﮨﯽ ﺗﻌﺮﯾﻒ ﮐﮯ ﻻﺋﻖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻌﻤﺖ ﺗﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﮨﮯ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﮨﮯ،
ﺗﯿﺮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮩﯿﮟ۔

لَبَّیکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیکَ حاضر ہوں خدایا میں حاضر ہوں! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کرنے کے بعد آواز بلند کی تھی اور ایک صدا لگائی تھی کہ اے لوگو! آؤ اپنے رب کے گھر کاطواف کرو-

یہ الفاظ جب کانوں میں گونجتے ہیں تو روح کو سرور حاصل ہوتا ہے ایک بے خودی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جیسے دل کسی اور دنیا میں دھڑک رہا ہے- یہ حاضری ہے تو ہر لمحہ حاضری میں رہوں اللہ دنیا ومافیا سے نرالا ہے تیرا احساس لفظوں کی قید سے آزاد ہے تیرا احساس کوئی محروم نہ رہے اس احساس حاضری سے اب تو نہ کوئی رنج ہے نہ حزن وملال-
لبیک کی صدا کے ساتھ حمد وشکر کا نغمہ جڑا ہواہے اور حمد شکر ہے سے محبت وخود سپرد گی پیداہوتی ہے۔ اللہ کی نعمتوں کا اعتراف پیدا ہوتاہے۔ ہر قسم کے شیطانی وسوسوں سے نجات حاصل ہوتی ہے، دوران سفر اللہ رب العزت نگہبان ومددگار ہوتاہے۔ لبیک کی پکار اللہ کی اس پکارکے جواب میں ہے۔

رسول اکرم ؐ جب بلند آواز سے لبیک کی صدا لگاتے تو ہر طرف سے اس صدائےولولہ انگیز کی بازگشت کی آواز آتی اور تمام دشت وجبل گونچ اٹھتے۔

آپ ؐ نے فرمایا:۔جبرئیل میرے پاس آتے اور مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنے صحابہ کو حکم دو کہ وہ احرام باندھتے ہوئے، یا لبیک کہتے ہوئے اپنی آوازیں بلند کریں (ترمذی۔ابودائود،نسائی ومالک)

نیز فرمایا: مسلمان جب لبیک کہتاہے، تو اس کے دائیں بائیں پتھر اور درخت مٹی کے ڈھیلے سب لبیک کہتے ہےں، یہاں تک کہ ادھر کی ساری اور ادھر کی ساری زمین(ترمذی ،ابن ماجہ)

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَo (آل عمران، 3 : 96)

’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لیے بنایا گیا، وہی ہے جو مکہّ میں ہے برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لیے (مرکزِ) ہدایت ہےo‘‘

جب تعمیر مکمل ہوئی تو حکم ہوا کہ تمام جہاں والوں کو اللہ کے گھر میں آنے کی دعوت دیں۔ اس دعوت کا ذکر قرآن حکیم میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے :

وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍo (الحج، 22 : 27)

’’اور تم لوگوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو وہ تمہارے پاس پیدل اور تمام دبلے اونٹوں پر (سوار) حاضر ہو جائیں گے جو دور دراز کے راستوں سے آتے ہیںo‘‘

Labbayka Allahumma Labbayk. Labbayk La Sharika Laka Labbayk. Inna l-Hamda, Wa n-Nimata, Laka wal Mulk, La Sharika Lak.


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں