632

رحمٰن یا شیطان


آپ اپنی اولاد کو کس کی بندگی کے لئے تیار کر رہے ہیں
رحمٰن یا شیطان

وقال رسول اللّٰہ ﷺ ۔علموا اولادکم واھلیکم الخیر وادبوہھم ۔صدق اللّٰہ العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے ایمان والوتم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔
اور حضور ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ اپنی اولاد اور اپنے گھر والوں کو خیر وبھلائی کی باتیں سکھاؤ اور ان کو ادب سکھاؤ

”اولاد“ اللہ تعالی کی بیش بہا نعمت اور والدین کے لیے مستقبل کا قیمتی اثاثہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے وجود کو دنیاوی زندگی میں زینت اور رونق سے تعبیر کیا جاتا ہے؛ لیکن یہ (اولاد) رونق و بہار اور زینت و کمال کا سبب اسی وقت بنتی ہے جب انھیں زیور تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے، بچپن ہی سے ان کی صحیح نشو و نما کا خیال رکھا جاتا ہے، ان کی دینی تربیت و پرداخت کو ضروری سمجھا جاتا ہے، نیز اسلامی و ایمانی ماحول میں انھیں پروان چڑھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ذات سے نمازوں کا اہتمام کرکے اپنی اولاد کی بھی نمازوں کی نگرانی کرے۔ کم عمری ہی سے بچوں کو سچ بولنے اور جُھوٹ سے پرہیز کرنے کی عادت ڈالیں کیوں کہ بچپن کی عادت بعد میں پختہ ہوجاتی ہے۔ والدین کی تربیت کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ کم سنی سے عفو و درگزر کی عادت ڈالیں یعنی دوسروں کی غلطیوں اور زیادتیوں کو محسوس کرنے کے باوجود فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظرانداز کردینا اور معاف کردینا سکھائیں، اس کے علاوہ سنت نبوی ﷺ کے مطابق تمام روزمرہ کی دعائیں یاد کروانا بھی کم سنی میں زیادہ بہتر ہے۔ کیوں کہ اس عمر میں حافظہ زیادہ تیز ہوتا ہے۔ جس طرح اولاد کی دنیاوی تعلیم اور ان کی دیگر ضرورتوں کو پورا کرنے کی دن رات فکر کی جاتی ہے اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ ان کی آخرت کی فکر کرنی چاہئے کہ وہ کس طرح جہنم کی آگ سے بچ کر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت میں داخل ہونے والے بن جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بچے جب سات سال کے ہو جائیں تو نماز کا حکم دیں اور جب دس سال کے ہوجائیں تو نماز میں کوتاہی کرنے پر ان کی پٹائی کریں۔ دس سال کی عمر میں ان کے بستر الگ کردیں۔ (ابوداود) عام طور پر بچے سات سال کی عمر میں سمجھ دار ہوجاتے ہیں، اس وقت ان کو خدا پرستی کے راستے پر ڈالنا چاہئے اور ان کو نماز پڑھنے کی ترغیب دینی چاہئے- معاشرہ کی بے شمار برائیاں ٹی وی اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے پھیل رہی ہیں، لہذا فحش وعریانیت اور بے حیائی کے پروگرام دیکھنے سے بھی دور رکھیں، اور اپنی اولاد وگھر والوں کی خاص نگرانی رکھیں-

Aap Apni Olaad Ko Kis Ki Bandagi Kay Liay Tyaar Kar Rahay Hain
Rehmaan Ya Shaitaan


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں