1,724

میری تعریف کرے یا مجھے بد نام کرے


میری تعریف کرے یا مجھے بدنام کرے
جس نے جو بات بھی کرنی ہے سر عام کرے

زخم پر وقت کا مرہم تو لگا دیتی ہے
اور کیا اس کے سوا گردش ایام کرے

محتسب سے میں اکیلا ہی نمٹ سکتا ہوں
جس نے جو جرم کیا ہے وہ مرے نام کرے

وہ مری سوچ سے خائف ہے تو اس سے کہنا
مجھ میں اڑتے ہوئے طائر کو تہہ دام کرے

کون آئے گا پئے پرسش احوال یہاں
کس کی خاطر کوئی تزئین در و بام کرے

مجھ کو بھی ہو مری اوقات کا کچھ اندازہ
کوئی تو صورت یوسف مجھے نیلام کرے

مقبول عامر

میری تعریف کرے یا۔۔۔

Meri Tareef Karay Ya Mujhay Badnaam Karay
Jis Ne Jo Baat Bhi Kerni Hai Sare Aam Kare


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں