1,791

معصوم سے چہرے


وہ سب معصوم سے چہرے تلاش رزق میں گم ہیں
جنہیں تتلی پکڑنا تھی، جنہیں باغوں میں ہونا تھا

بچے اپنے والدین کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کا مستقبل اور سرمایہ حیات ہوتے ہیں ۔ گھریلو حالات سے تنگ آکر یہ بچے سکول جانے کی عمر میں بعض اوقات خود یا والدین کے کہنے پر گھر کا چولہا جلانے کی خاطر سکو ل جانے کے بجائے دکانوں ،ریڑھیوں ،کوڑاچننے اور دیگر مقامات پر کام کرنے لگ جاتے ہیں- اور وقت گزرتے وہ انہی کاموں میں پکے ہو جاتے ہیں اور معاشرتی ناسور بن جاتے ہیں -ایسا ناسور زیادہ غریب ممالک میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس معاشرے میں جہاں معصوم چہرے رزق کما رہے ہوں ، لوگ غریب سے غریب تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور امیر لوگ اور بھی امیر بنتے جاتے ہیں-

چائلڈ لیبر اورچائلڈ ورک میں فرق ہے ۔چائلڈ لیبر ایساکام ہے جس میں بچوں سے مقررہ وقت سے زیادہ یااہلیت سے زیادہ کام لیاجائے‘ان کی ذہنی‘اخلاقی‘جسمانی سطح متاثرہو‘انکی لازمی تعلیم میں حرج ہویاان کے کھیل کود اوربچپن کی خواہشوں ادھوری رہ جائیں ‘ یا خطرناک وکیمیائی ماحول وغیرہ ان پہ اثرانداز ہو۔چائلڈورک سے مراد ایساـ”کامـ”جسے بچے سکول سے فارغ ہونے کے بعد ‘تعطیلات میں یااپنے اضافی وقت کواستعمال میں لاتے ہوئے خاندانی کاروبارمیں صرف کریں ‘چائلڈورک کہلاتاہے ۔اس سے بچوں کی شخصیت پرمثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

بچے تو ٹہنیوں پہ لگے پھول کی طرح ہوتے ہیں یہ پھول بہت ہی نازک ہوتے ہیں – جب مہکتے ہیں تو ماحول خوشگوار کر دیتے ہیں – زرا سی سختی کرنے سے مرجھا جاتے ہیں یہ سختی چاہے موسم کی ہو یا معاشرے کی – موسم تو قدرت کے اختیار میں ہے مگر معاشرہ تو ہم سے ہے-نازک پھول صحت پر مضر اثر مرتب کرنے والے کارخانوں میں رگڑائی کٹائی جیسے مشکل کام سرانجام دیتے ہیں اور دیگر ناہموار محنت کشی کا ذمہ بچے کے نوعمر جسد پرڈال دیا جاتا ہے اور ماں باپ کی کفالت حالات کی تنگی جیسی سوچ بچے کو چپ چاپ کام کرنے ظلم سہنے کا عادی بنادیتی ہے ۔ اور ہمیں ان پھولوں کی حفاظت کرنے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے-اس احساس ذمہ پہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشنن نے دنیا بھر12جون کو چائلڈلیبر ڈے منانے کا آغاز کیا۔ پاکستان میں بھی 12جون کو چائلڈلیبر کے خلاف دن منایا جاتا ہے-

Wo Sab Masoom Say Chehray Talaash-e-Rizaq Mein Gum Hain
Jinhein Titli Pakarna Thi, Jinhein Baghoon Mein Hona Tha


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں