2,006

قربانی کی دعا اور طریقہ


قربانی کی دعا اور طریقہ

قربانی کے جانور کو قبلہ رخ لٹانا

قربانی کی دعا پڑھنا

بسم اللہ، اللہ اکبر کہتےہوئے تیز چھری سے ذبح کرنا

ذبح کرنے کی دعا پڑھنا

جانور کے حصہ داروں کے لئے مِن کہہ کے حصہ داروں کا نام لینا

ذبح کرنے کا مسنون طریقہ اور مختصر احکام*

جانورذبح کرنےکا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اسے بائیں پہلو (کروٹ)پرقبلہ رخ لٹاکر’’بسم اللہ ، اللہ اکبر‘‘ کہتے ہوئےتیزدھار چھری سے اس طرح ذبح کریں کہ اس کی شہہ رگ، نرخرہ اورسانس کی نالی کٹ جائے، ذبح کے بعد جانور کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کیا جائے ،ذبح کے علاوہ مزید اضافی تکلیف دینا مثلاً گردن الگ کردینا،یاجلدی ٹھنڈا کرنے کیلئےحرام مغز ،سینےیادل میں چھری مارنا خلاف سنت اور مکروہ ہے۔ ان افعال سے جانور حرام نہ ہوگا بلکہ وہ حلال ہی ہوگا ، لیکن ذبح کےبعدمذکورہ بالاکام کرنا مکروہ ہے،کیونکہ جانور کو ذبح کے علاوہ مزید تکلیف پہنچانا شرعا ممنوع ہے ۔

مسلم شریف میں حضرت انس ؓ روایت بیان کرتے ہیں :
عن أنس، قال: «ضحى النبي صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين أقرنين، ذبحهما بيده، وسمى وكبر، ووضع رجله على صفاحهما»( صحيح مسلم:3/ 1556)
ترجمہ:حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھوں کی قربانی کی، آپ ﷺ نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ،اور ذبح کرتے وقت بسم اللہ ، اللہ اکبر پڑھا ،اور ان کے پہلو پر اپنا قدم مبارک رکھا ۔

دوسری حدیث میں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:
عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بكبش أقرن يطأ في سواد، ويبرك في سواد، وينظر في سواد، فأتي به ليضحي به، فقال لها: «يا عائشة، هلمي المدية»، ثم قال: «اشحذيها بحجر»، ففعلت: ثم أخذها، وأخذ الكبش فأضجعه، ثم ذبحه، ثم قال: «باسم الله، اللهم تقبل من محمد، وآل محمد، ومن أمة محمد، ثم ضحى به»( صحيح مسلم:3/ 1557)
ترجمہ:ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگوں والا مینڈھا لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو (یعنی پاؤں، پیٹ اور آنکھیں سیاہ ہوں)۔ پھر ایک ایسا مینڈھا قربانی کے لئے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ! چھری لا۔ پھر فرمایا کہ اس کو پتھر سے تیز کر لےتونے میں نے تیز کر دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری لی، مینڈھے کو پکڑا، اس کو لٹایا، پھر ذبح کرتے وقت فرمایا کہ بسم اللہ، اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی آل کی طرف سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی طرف سے اس کو قبول کر، پھر اس کی قربانی کی۔

*جانور ذبح کرتے وقت کی دُعا*

آنحضرت ﷺنے قربانی کرتے ہوئے یہ دو آیتیں پڑھیں:

إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ [الأنعام: 79]
اور
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ [الأنعام: 162]

اور پھر یہ دُعا پڑھی:اللّٰھم منک ولک عن محمد وأمّتہ
(قربانی کرنے والا صرف یہ جملے پڑھے’’ اللّٰھم منک ولک‘‘)

اور پھر بسم اللہ،اللہ اکبرکہہ کر ذبح فرمایا۔ (مجمع الزوائد ج:4 ص:21 میں اور بھی متعدّد احادیث ذکر کی ہیں)
مسئلہ:قربانی کے جانور کو قبلہ رخ لٹانے کے بعد یاد ہوں تویہ دونوں آیات اور دعاء’’ اللّٰھم منک ولک‘‘پڑھنا بہتر و افضل ہےاور پھر بسم اللہ ،اللہ اکبر پڑھ کرقربانی کے جانورکوتیزدھارچھری سے ذبح کردیں۔

*جانور ذبح کرنے کے بعد کی دُعا*

اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ مُحَمَّد وَخَلِیْلِکَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْھمَا السَّلَامُ

ترجمہ:اے اللہ! اس قربانی کو مجھ سے قبول فرما، جیسے کہ آپ نے قبول کیا اپنے حبیب حضرت محمد ﷺسے اور اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ وعلیٰ نبینا الصلوٰة والسلام سے۔

مسئلہ:اگر قربانی کسی دوسرے کی طرف سے یا کئی افراد کی طرف سے کی جارہی ہوتو لفظ مِنِّیْ کے بجائے مِنْ کےبعد اس شخص کایا قربانی میں شریک تمام شرکاء کا نام لئے جائیں گے،مثلا من زید یا من زید و عمر و خالد۔

مسئلہ: تمام شرکاء کے نام لینا ضروری نہیں ہے بلکہ نام لئے بغیر بھی قربانی درست ہےکیونکہ ان کا نام دل میں موجود ہوتا ہے۔

مسئلہ: جانور کو ذبح کرتےوقت صرف قصائی یا چھری چلانے میں معاونت کرنے والے کیلئے ایک مرتبہ اللہ کا نام لینا ضروری ہے،تاہم’’بسم الله الله أكبر‘‘ پڑھنا مستحب ہے،ساتوں شرکاءکیلئے پڑھنے والی بات درست نہیں ہے۔( المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة – 5 / 653)

مسئلہ:جانور کو ذبح کرتے ہوئے چھری کو اگر ایک سے زیادہ افراد چلائیں گے تو سب کیلئے اللہ کا نام لیناضروری ہے،اگر کسی ایک نے بھی جان بوجھ کر اللہ کانام چھوڑدیا تو جانور حلال نہ ہو گا۔( الفتاوى الهندية – 5 / 304)
مسئلہ:بسم اللہ،اللہ اکبر دل ہی دل میں پڑھنا کافی نہیں ہے،بلکہ زبان سے تلفظ ادا کرنا ضروری ہے،لہذااگر آپ اپنا جانور قصائی سے ذبح کرا رہے ہیں تو اسے بسم اللہ،اللہ اکبرکچھ بلند آواز سے پڑھنے کی تلقین کریں تاکہ کسی قسم کا شبہ نہ رہے۔

مسئلہ:جانور کوذبح کرتےہوئےچاروں رگیں(خون کی رگیں،نرخرہ اور سانس کی نالی) کاٹنے کا مکمل اہتمام کریں۔اگر چار میں سے اکثریعنی تین کٹ گئیں تو تب بھی جانور حلال ہو گا، لیکن اگر تین سے کم کٹیں تو جانور حلال نہ ہوگا۔( الفتاوى الهندية :5/ 287)

مسئلہ: ذبح کیلئے ہر وہ طریقہ اختیار کرناجس سے جانور کو ذبح کے وقت ہونے والی لازم تکلیف میں زیادتی ہومکروہ تحریمی ہے،لہذاجانورکےذبح کے فورا ًبعد پوری طرح ٹھنڈا ہونے سے پہلے حرام مغزیا سینے میں چھری مارنایاکھال اتارنا درست نہیں ہے۔( مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح :6 / 2649)

مسئلہ: حلال جانور کی سات چیزیں کھاناحرام ہیں جن میں اوجھڑی شامل نہیں:
1:-بہتا ہوا خون
2:-غدود(یہ کوئی مستقل عضو نہیں ہے،بلکہ فاسد گوشت کی اس گلٹی کا نام ہےجو کسی بیماری کی وجہ سے ابھر آتی ہےاور اس کے گرد چربی جم جاتی ہے)
3:-مثانہ۔
4:-پتہ۔
7:- خصیتین (کپورے)۔
اوّل الذکر کا حرام ہونا تو قرآنِ کریم سے ثابت ہے بقیہ اشیاء طبعاً خبیث ہیں، اس لئے ”ویحرم علیھم الخبائث“ کے عموم میں یہ بھی داخل ہیں۔ نیز ایک حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سات چیزوں کو ناپسند فرماتے تھے۔ (مصنف عبدالرزاق ج:4 ص:535، مراسیل ابی داوٴد ص:19، حاشية ابن عابدين : (6 / 749))

مسئلہ: افضل یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں ایک حصہ گھر کیلئے ایک دوست احباب کیلئے اور ایک فقراء ومساکین کیلئے تاہم اگر کوئی شخص سارا گوشت گھر میں رکھ لیتا ہے یا جمع کر لیتا ہے تو یہ بھی جائز ہے۔( الفتاوى الهندية:5 / 300)

Qurbani Ki Dua Aur Tariqa
Qurbani Kay Janwr Ko Qibla Rukh Leta Ker Yeh Dua Prhen
INNI Wajjahtu Wjhiya Lillazi Fataraas Samaawaati Wal Arda Hanifauw Wama Ana Minal Mushrikin Qul, Inna Salati Wa Nusukiwa Mahya Yaw A Mamati Lillahi Rabbil Aa’Lamin. Laasharika Lahu Wabizaalika Umri Tu Wa Ana Mina’l Muslimin Alluhuma Minka Wa Laka


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں