616

سوچیں


اب سمجھا ماں سچ کہتی تھی
سوچیں بوڑھا کر دیتی ہیں

اب سمجھا ماں سچ کہتی تھی سوچیں انسان کو جلدی بوڑھا کر دیتی ہیں. مثبت سوچ کا درس دیتے ہوئے ایک استاد نے طلبا سے کہا تھا کہ مثبت سوچ عمر میں اضافہ کرتی ہے اور کسی نے تو یہ بھی کہا ہے کہ منفی سوچیں سانپ کے زہر سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہیں. تعمیری سوچ کو پھل پھول ذرا دیر سے لگتے ہیں. جبکہ تخریبی سوچ اس بیل کی طرح ہوتی ہے جو بہت جلد ہی اپنے قد کاٹھ کو پھیلا دیتی اور آسمان کو چھونے لگتی ہے.

اکثر ایسی سوچیں آتی ہیں کہ لگاتار اور مسلسل ناکامیاں میرا مقدر ہی کیوں- زندگی میں لاتعداد و بے شمار خوشیاں کیوں نہیں- زندگی میں کچھ کمی سی ہے. کوئی ان جانا دکھ ہے جو گھیرے رکھتا ہے… یہ سوچ اور اس جیسے خیالات اداس کرتے ہیں..زمین و آسمان اور ارد گرد کا ماحول بھی اجنبی سا لگنے لگتا ہے. نا شکری کے بادل سر پہ سایہ کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں. ویرانی سی ڈیرہ ڈال لیتی ہے. اور ایک لمحے کو ایسا لگتا ہے کہ عمر اور تجربہ سب کا سب بے کار گیا. ایک بوجھ ہے جو دل و دماغ پر سوار لگتا ہے . کچھ بھی تو اچھا نہیں. زندگی میں بگاڑ تو ہے مگر سدھار نہیں.

انہی خیالات میں مدہوش رہتے ہوئے پھر ایک تبدیل منظر دکھائی دینے لگتا ہے. میری آنکھوں کے سامنے رفتہ رفتہ وہ مناظر آ جاتے ہیں. جہاں غلط فیصلے اور غلطیاں سر زد ہوئیں ہوتی ہیں جذبات میں قدم اٹھے… بہت کچھ جو ہونا چاہئے تھا وہ نہ ہو سکا… لیکن وہ ارمان جو پورے ہوئے.. وہ خواہشیں اور تمنائیں جو کبھی پوری ہوئی تھیں. درست کہ سب کچھ تو نہ مل سکا اور میں بہت کچھ سے محروم رہ گیا تھا… لیکن بہت کچھ ملا بھی…

بلکل تہی دامن نہ رہا. دامن میں خوشیاں بھی ہیں سکھ اور سکون بھی نصیب ہوا..بس یہیں سے سوچ کا زاویہ یو ٹرن لیتا ہےایسے میں ایک لمحہ سوچتے سوچتے ایسا بھی آتا ہے کہ جو کچھ حاصل ہے اس پر جا نظر پڑتی ہے. بند سوچ یکدم کھلی سوچ بن جاتی ہے. دل و دماغ کو ایک نیا رخ مل جاتا ہے. محرومی بھول جاتی ہے. حاصل پر دھیان پڑتے ہی منفی سوچیں غائب ہو جاتی اور مثبت سوچ و خیال غالب آ جاتا ہے. نعمتوں پر جی جان سے شکر کی کونپلیں پھوٹ پڑتی ہیں. ادھورے پن کا اور محروم رہنے کا احساس ختم ہو جاتا ہے. غلطیاں نہ دوہرانے کا عزم پیدا ہوتا ہے.لاحاصل کی جستجو چھوٹ جاتی ہے. نئے ارادے باندھنے اور عمل کی راہ اختیار کرنے کا خود سے وعدہ ہوتا ہے. لگن اور عزم بیدار ہوتے ہیں.

منزل کی جانب قدم تیزی سے دوڑنے لگتے ہیں. مایوسی امید بن جاتی ہے…. پل بھر میں منفی سے مثبت کا سفر شروع ہو جاتا ہے… زبان پکار اٹھتی ہے. لگتا یہی ہے کہ زبان سے ادا ہونے والے یہ لفظ دل سے ہی نکلے ہیں. وہ لفظ یہ ہوتے ہیں.” اللہ تیرا شکر ہے-

Ab Samja— Maa Sach Kehti Thi
Sochen Insan Ko Burha Kr Deti Hein


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں