6,925

قُرآن دل و دماغ کھول دیتا ہے


قُرآن دل و دماغ کھول دیتا ہے لیکن
اُس کے لئیے قُرآن کھولنا ضروری ہے

قرآن مجید اللہ عزوجل کی طرف سے نازل کی گئی ایک ایسی کتاب جس میں نا صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانوں کے لیے رہنما اصول و ضوابط جن پر عمل کر کے انسان اور مسلمان انسانیت کی بلندی تک پہنچ سکتے ہیں۔

کچھ لوگ اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ قرآن کے پڑھنے پر زیادہ زور ہو، کچھ اس کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنے اور عمل کرنے اور کچھ دوسری باتوں پر بھی توجہ مرکوز رکھتے اور رکھواتے ہیں۔ یہ بات تو صاف ہے کہ قرآن کا چھونا، پڑھنا، سمجھنا، اس کے مطابق زندگی کو عمل میں لانا اور قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہوئے اس کی تعلیم و تربیت کا خود بھی اہتمام کرنا اور اس کو پھیلانا اور اس کی تعلیم عام کرنا ہم سب کا فرض ہے۔

کچھ محترم حضرات کا خیال ہے کہ قرآن ایک ایسی زبردست کتاب ہے کہ جس کو سمجھنا صرف بہت زیادہ پڑھے لکھے اور قابل لوگوں کا ہی کام ہے۔ کسی حد تک ان کی باتوں سے اتفاق کیا جاسکتا ہے مگر نہیں رکیے قرآن کا پڑھنا سمجھنا اور سمجھانا کیا صرف چند افراد تک ہی محدود ہونا چاہیے۔

ذیل میں ایک صاحب علم کی کچھ باتیں قرآن فہمی سے متعلق نقل کرنے کی جسارت کی ہے اس اچھی امید کے ساتھ کہ شاید کچھ میری عاقبت کا بھی سامان ہو جائے۔

فرماتے ہیں
“ اسلامی قانون کے ٹھیک ٹھیک مطابق قانون سازی اللہ اور صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ آدم سے لے کر اب تک اللہ تعالیٰ نے اپنے قوانین اپنے انبیا اور رسولوں کے زریعے سے نافذ فرمائے ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اللہ کی حکمت بالغہ اس امر کی متقضی ہوئی کہ لوگوں کو آخری شریعت عطا کی جائے۔ یہ قانون شریعت انسانوں کی طرف محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کی شکل میں نازل ہوا۔ یہ وحی لکھ لی گئی یا زبانی یاد کرلی گئی اور بعد میں اسے ایک کتاب کی شکل میں جمع کر دیا گیا جو قرآن مجید کے نام سے معروف ہے۔

اس کے بعد نسل انسانی کے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں کو معاملات کا تصفیہ ان احکام کی روشنی میں کیا جانا تھا، جو اللہ نے قرآن میں ارشاد فرمائے۔ یہی احکام بتاتے ہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے، کیا پسندیدہ ہے اور کیا غیر پسندیدہ ہے، کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے، کیا مستحب ہے اور کیا مکروہ ہے۔ غرض قرآن مجید مسلم معاشرے کی ایک لازمی بنیاد ہے۔

Quran Dil O Dimaag Khol Deta Hy Lekin
Us Kay Liye Quran Kholna Zaroori Hay


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں