3,526

پل کی خبر نہیں


سامان سو برس کا
پل کی خبر نہیں

پل کی خبر نہیں

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

آ جائیں رعب غیر میں ہم وہ بشر نہیں
کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں

اک تو شب فراق کے صدمے ہیں جاں گداز
اندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں

کیا کہئے اس طرح کے تلون مزاج کو
وعدے کا ہے یہ حال ادھر ہاں ادھر نہیں

رکھتے قدم جو وادئ الفت میں بے دھڑک
حیرت سوا تمہارے کسی کا جگر نہیں

Samaan So Baras Ka
Pal Ki Khabar Nahi


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں