605

محرم الحرام


طلوع اسلام سے قبل بھی تاریخِ انسانیت کے بے شمار واقعات محرم الحرام میں رونما ہوئے ۔ یہ واقعات محض اتفاقی یا حادثاتی نہ تھے۔ بلکہ قسام ِ ازل کا اٹل فیصلہ تھا جو ہونا تھا اور ہو کر رہا۔ محرم کے مہینے کو محرم اس کی تعظیم کی وجہ سے کہتے ہیں، لفظ حرام یہ حرمت سے ہے، اس کے معنی ہیں: قابلِ احترام ، اور محرم الحرام کا معنی ہے: محرم کا مہینہ جو قابل احترام ہے- محرم الحرام ان چار مہینوں میں سے ایک ہے، جنہیں اللہ تبارک وتعالی نے حرمت والے مہینے قرار دیا ہے، وہ چار مہینے یہ ہیں:

○ رجب
○ ذوالقعدہ
○ ذوالحجہ
○ محرم الحرام

ان مہینوں کو حرمت والا اس لیے کہتے ہیں کہ ان میں ہر ایسے کام سے جو فتنہ وفساد، قتل وغارت اور امن وسکون کی خرابی کا باعث ہو، بالخصوص منع فرمایا گیا ہے۔ حتی کہ زمانہ جاہلیت میں بھی ان چار مہینوں کا احترام کیا جاتا تھا- رب العزت کا فرمان ہے:

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰهِ اثۡنَا عَشَرَ شَهۡرًا فِىۡ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ مِنۡهَاۤ اَرۡبَعَةٌ حُرُمٌ‌ؕ ذٰلِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ ۙ‌ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِيۡهِنَّ اَنۡفُسَكُمۡ‌ؕ وَقَاتِلُوۡا الۡمُشۡرِكِيۡنَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ كَآفَّةً‌ ؕ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الۡمُتَّقِيۡنَ‏ ﴿۳۶﴾
بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے (ف۸۰) اللہ کی کتاب میں (ف۸۱) جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں (ف۸۲) یہ سیدھا دین ہے، تو ان مہینوں میں (ف۸۳) اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے (ف۸۴) ﴿ التوبۃ ۳۶﴾

محرم الحرام

محرم الحرام میں ظہور پذیر ہونے والے چند واقعات کا ذکر کرتے ہیں:
○ اس ماہ میں کائنات کی تخلیق ہوئی۔
○ اور اس ماہ میں ہی قیامت آئے گی۔
○ حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے۔
○ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔
○ کشتی نوح علیہ السلام وادی جودی پہ ٹھہری۔
○ سیدنا یعقوب علیہ السلام کی بینائی لوٹائی گئی۔
○ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اُٹھایا گیا۔
○ حضرت آدم علیہ السلام کو خلافت کا تاج پہنایا گیا-
○ سیدنا ادریس علیہ السلام کو درجات عالیہ عطا ہوئے۔
○ سیدنا یوسف علیہ السلام صدیق اللہ کو جیل سے رہائی ملی۔
○ سیدنا یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے رہائی ملی۔
○ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو منصب و مقام خلیل سے سرفراز فرمایا گیا۔
○ فرعون غرقِ نیل ہوا اور موسیٰ علیہ السلام کلیم اللہ کو کامیابی عطا ہوئی۔
○ اسی ماہ یوم عاشورہ کو اہلِ مکہ خانہ کعبہ پر غلاف چڑھاتے تھے اور اس دن کو یوم الزینتہ کہتے تھے۔
○ اسی ماہ امام الانبیاء خاتم المعصومین سیدنا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے چند سال قبل ابرہہ بیت اللہ پر حملہ کی نیت سے نکلا ۔ تو اللہ نے ابا بیلوں کا لشکر بھیج کر اسے تباہ و برباد کر دیا۔

Muharram ul Haram


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں