832

گرد جستجو بھی گئی


اگزٹ

سفر تمام ہوا گرد جستجو بھی گئی
تری تلاش میں نکلی تو آرزو بھی گئی

اک انتظار سا تھا برف کے پگھلنے کا
پھر اس کے بعد تو امید آب جو بھی گئی

طلب کی راہ میں ایسے بھی موڑ آئے ہیں
کہ حرف و صوت گیا شوخیٔ گلو بھی گئی

یہ برگ و بار کہاں جاذب نظر ٹھہرے
تمہارے بعد تو پھولوں سے رنگ و بو بھی گئی

کچھ ایسے خاک اڑائی ہے دشت ہو میں جمالؔ
کہ جذب شوق بھی تفریق ما و تو بھی گئی

خالد جمال

Safar Tamam Hua Grd Justaju Bhi Gayi


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں