688

قائدِ اعظم کی شان میں نذرانہ عقیدت


قائد اعظم محمد على جناح (25 دسمبر 1876ء – 11 ستمبر 1948ء)

قائدِ اعظم

عظیم سیرت نگار، برِ صغیر پا ک و ہند کے معروف سیاستدان اور صحافی جناب سید سلیمان ندوی نے ١٩١٦ء میں مسلم لیگ کے لکھنئو اجلاس میں قائدِ اعظم کی شان میں یہ نذرانہ عقیدت پیش کیا۔

اک زمانہ تھا کہ اسرار دروں مستور تھے
کوہ شملہ جن دنوں ہم پایہ سینا رہا
جبکہ داروئے وفا ہر دور کی درماں رہی
جبکہ ہر ناداں عطائی بو علی سینا رہا
جب ہمارے چارہ فرما زہر کہتے تھے اسے
جس پہ اب موقوف ساری قوم کا جینا رہا
بادہء حبِ وطن کچھ کیف پیدا کر سکے
دور میں یونہی اگر یہ ساغر و مینا رہا
ملتِ دل بر کے گو اصلی قوا بیکار ہیں
گوش شنوا ہے نہ ہم میں دیدہء بینا رہا
ہر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید
ڈاکٹر اس کا اگر ” مسٹر علی جینا” رہا
مولانا ظفر علی خان

Quaid e Azam Ki Shaan Mein Nazrana Aqeedat


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں