582

محمّد مصطفیٰ ﷺ


جس ہستی سے میری نجات وابستہ ہے
اس ہستی کا نام محمّد مصطفیٰﷺ ہے

حضرت محمد مصطفی ؐ،احمد مجتبیٰؐ پوری انسانیت کے لئے عظیم اور مثالی معلم بن کر تشریف لائے اور آپؐ کی تعلیم و تربیت کے انقلابی اثرات نے23 سال کی مختصر مدت میں نہ صرف ریگستان عرب کے منتشر، جنگجو، سرکش اور تہذیب سے ناآشنا عربوں کو ایک قانون، ایک نظام اور ایک حکومت کے تابع کر دیا، بلکہ پوری دنیا کے لئے رشد و ہدایات کی وہ ابدی قندیلیں روشن کیں جو قیامت تک انسانیت کو عدل و انصاف، امن و سکون اور عافیت و اطمینان کی راہ دکھاتی رہیں گی۔ یہ آپ کی تعلیم و تربیت کا حیرت انگیز کرشمہ تھا کہ23 برسوں میں صحرائے عرب کے وہ باشندے جو علم و معرفت اور تہذیب و تمدن سے بالکل نا آشنا تھے۔ دنیا میں علم وحکمت اور تہذیب کے چراغ روشن کرنے لگے اور ایران و روم کی عظیم سلطنتوں کے وارث بن گئے۔ جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ جہاں قتل و غارت کا بازار تھا، وہاں امن و امان۔ جہاں ظلم و بربریت کا دور تھا، وہاں عدل و انصاف۔ جہاں پتھر کے بتوں کو سجدے کئے جاتے تھے، وہاں توحید کا پرچم لہرانے لگا۔ جہاں حیا سوز حرکتوں کی وجہ سے آدمیت اپنے آپ کو چھپانے پر مجبور تھی، وہاں انسانیت کو معراج ملی۔ اس کامیابی کا پہلا بڑا سبب آپ کی شفقت و رحمت، نرم خوئی، دلسوزی اور خیر خواہی ہے۔ رب ذوالجلال نے قرآن کریم میں بھی آپ کی اس خصوصیت کا ذکر فرمایا اور اسے آپ کی کامیابی و کامرانی کا سبب قرار دیا۔ سیرت طیبہ اس بات کی گواہ ہے کہ آپ کے دل میں ایک لمحے کے لئے بھی انتقام کا جذیہ پیدا نہیں ہوا، بلکہ یہ فکر ہمیشہ دامن گیر رہی کہ وہ کیا طریقہ اختیار کریں جس سے حق بات مخالفین کے دل میں اتر جائے۔ کامیابی و کامرانی کا دوسرا سبب یہ تھا کہ آپ کے وعظ و نصائح صرف دوسروں کے لئے نہ تھے، بلکہ سب سے پہلے اپنی ذات کے لئے تھے۔ آپ نے لوگوں کو نماز کی تلقین فرمائی تو دوسرے اگر پانچ وقت کی نماز پڑھتے تھے تو آپ آٹھ وقت نماز ادا فرماتے تھے۔ جس میں چاشت، اشراق اور تہجد کی نمازیں بھی شامل ہیں۔ دوسروں کو نماز با جماعت کی تعلیم دی تو خود یہ عمل کر کے دکھایا کہ ساری زندگی نماز با جماعت کی جو پابندی فرمائی وہ تو اپنی جگہ ہے۔ عین مرض وصال میں بھی مسجد کی نماز کو نہیں چھوڑا۔ دوسروں کو اگر رمضان کے فرض روزوں کا حکم دیا تو آپؐ کے لئے کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہ تھا۔

آپؐ نے اپنے پیروکاروں کو زہد و قناعت کی تعلیم دی تو خود اپنی زندگی میں اس کا عملی نمونہ پیش کر کے دکھایا۔ آپ نے اگر مساوات اور بھائی چارے کی تعلیم دی تو خود اس پر عمل کرتے ہوئے ایک سپاہی کی حیثیت میں مدینہ کے دفاع کے لئے بنفس نفیس کدال ہاتھ میں لے کر خندق کھودنے میں شریک تھے۔ آپ نے اگر لوگوں کو صبر و تحمل اور عفو و درگزر کا درس دیا، تو خود اس پر عمل پیرا ہو کر دکھایا۔ عفو و درگزر کا جو عملی نمونہ آپ نے فتح مکہ کے موقع پر پیش کیا وہ ساری دنیا کو معلوم ہے اور وہ لوگ جنہوں نے آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں پر عرصہء حیات تنگ کرنے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑا تھا۔ ان کے لئے رحمتہ العالمین نے فرمایا: ’’آج کے دن تم پر کچھ ملامت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو‘‘۔
پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ کی چند تعلیمات کی صحیح نشاندہی کرنے والے چند اہم ارشادات درج ذیل ہیں، جن سے عالم گیر انسانی اخوت کی شیرازہ بندی اور دین اسلام کے ہمہ گیر بنیادی تصورات واضح ہو جاتے ہیں۔

(1) اعمال کا مدار نیت پر ہے۔

(2)اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے ، کوئی معبود نہیں سوائے خدا کے اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ۔

(3) دین نام ہے اللہ کی کتاب، اس کے رسول پر ایمان لانے اور عام مسلمانوں سے خیر خواہی کرنے کا۔

(4)آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ فضول باتوں کو ترک کر دے۔

(5)تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لئے وہ چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔

(6)جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہئے کہ نیک بات کرے، ورنہ خاموش رہے۔ پڑوسیوں اور اپنے مہمان کی عزت کرے۔

(7)خدا نے ہر جاندار پر شفقت واجب کی ہے۔

(8)خدا سے ڈرتے رہو۔ برائی کو نیکی سے مٹاؤ۔ لوگوں کا خالق اللہ ،حسین اخلاق والا ہے۔

(9)حیا ایمان کی شاخ ہے۔

(10) جس نے علم کا راستہ اختیار کیا، اس نے جنت کا راستہ اختیار کیا۔

(11) اولاد کو اچھی تربیت دینا، ایک صالح خیرات سے بہتر ہے۔

(12) علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد، عورت پر فرض ہے۔

(13)گود سے گور تک علم سیکھتے رہو۔

(14) مشورہ دینے والا امین ہے

(15)رزق زمین کے کناروں میں تلاش کرو۔ خدا بلند امور کو پسند اور ذلیل کاموں کو نا پسند کرتا ہے۔

(16) جس نے استخارہ کیا نقصان نہ اُٹھایا، جس نے مشورہ کیا نادم نہ ہوا۔ جس نے میانہ روی اختیار کی تنگدست نہ ہوا۔

(17)جس نے ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کی اور بڑوں کی عزت نہ کی وہ ہم میں سے نہیں۔

(18)غلام کو آزاد کرو، پکارنے والے کی سنو، بھوکے کو کھلاؤ مریض کی خدمت کرو۔

(19)مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔

(20)تمام مخلوق خدا کا کنبہ ہے پس خدا کا محبوب وہ ہے جو اس کے خاندان کا محبوب ہے۔

(21) بہترین لوگ وہ ہیں جو اچھے اخلاق کے مالک ہیں۔

(22)جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔

(23)پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، تندرستی کو بیماری سے پہلے، مالداری کو فقر سے پہلے، زندگی کو موت سے پہلے اور فرصت کو مصروفیت سے پہلے۔

(24)بیشک اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے اور وہ رحم کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا جو اس کی مخلوق پر رحم نہیں کرتا۔

Jis Hasti Se Meri Nijaat Wabasta Hai
Us Hasti Ka Naam MUHAMMAD MUSTAFA SAW hai


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں