820

محبت….. بیلی راجپوتوں کی ملکہ


جب کسی سے محبت کی جاتی ہے تو دل میں ایک قبرستان بھی بنایا جاتا ہے
جس میں اپنے محبوب کی تمام خامیاں دفن کر دی جاتی ہیں
اور پھر ان کے کتبے نہیں لگائے جاتے۔

بیلی راجپوتوں کی ملکہ سے اقتباس

محبت

Mohabat….Beli Raajpooton Ki Malika


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

محبت….. بیلی راجپوتوں کی ملکہ” ایک تبصرہ

  1. عنوان:
    کسی درد مند کے کام آ۔۔۔

    السلام و علیکم۔۔۔!!
    “ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا”
    ہم اکثر یہ محاورہ سنتے ہیں لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ محاورہ صرف باتوں تک ہی محدود ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے میں اس کا فقدان ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے تو وہ اسی بِنا پر بنایا کہ انسان دوسروں کا احساس کرے ان کے درد کو اپنا درد سمجھے۔ ان کی مدد کرے ان کی ضروریات کا خیال رکھے۔ اگر ہم اس کے باوجود دوسروں کی مدد نہیں کرتے تو یہ نہایت افسوس کی بات ہے۔ ہمارا دین اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ہمیں اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ ہمیں انسانیت کی خدمت کرنی چاہیئے۔ بھوکے کو کھانا کھلانے اور پیاسے کو پانی پلانے پر ہمارے دین میں بڑی فضیلت حاصل ہے۔ عیدِ قرباں پر ہم جو قربانی کرتے ہیں وہ بھی احساس اور ایثار کا عملی ثبوت ہے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں احساس کی کمی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مدد کریں۔ اگر ہم مالی امداد کرسکتے ہوں تو وہ کرنی چاہیئے کسی کو اچھی بات بتانا بھی صدقہ جاریہ ہے۔ کسی بوڑھے کو سڑک پار کروا دیں۔ کسی پیاسے کو پانی پلا دیں۔ کسی بھٹکے ہوئے کو راستہ بتادیں۔ غرض یہ کہ ہمیں ہر لحاظ سے مستحق اور دردمندوں کی مدد کرنی چاہیئے کیونکہ اسی میں روحانی سکون اور خوش پوشیدہ ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے قرب کا بھی ذریعہ ہے۔ اگر ہم نے کسی ضرورت مند کو دیکھا تو اس کی مدد نہ کی حالانکہ اس کی مدد کرنے پر ہم قادر بھی ہوں تو خدا کی قسم ہم مفتی ہو سکتے ہیں نمازی ہو سکتے ہیں متقی ہو سکتے ہیں مگر ہم نیک انسان نہیں ہو سکتے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللّٰہ علیہ والہ وسلم کے تو الفاظ یہ ہیں کہ “تم میں سے اللّٰہ کے نزدیک سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو نفع دیتا ہے۔”
    حقیقی فاتح وہ ہوتا ہے جو لوگوں کے دل جیتنا جانتا ہے اور لوگوں کے دل وہی انسان جیت سکتا ہے جس کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ ہوتا ہے۔ ایسا شخص دکھی انسانیت کا مسیحا ہوتا ہے۔ جیسے ہمارے سامنے عبدالستار ایدھی صاحب کی مثال موجود ہے جنہوں نے ہزاروں انسانوں کی بے لوث مدد اور خدمت کی اور آج بھی وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
    ایک جگہ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ ” خدا تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں، لیکن میں نے خدا کا پسندیدہ ترین راستہ مخلوق سے محبت کو چنا”۔
    اللّٰہ پاک ہم سب کو دوسروں کی حقیقی معنوں میں مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔آمین
    یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
    کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

    فرقان اسلم

اپنا تبصرہ بھیجیں