660

ہمیشہ اللہ کے شکر گزار رہو


ہمیشہ اللہ کے شکر گزار رہو

ہم رمضان کے بعد کیسے ثابت قدم رہیں؟
ہمارے دلوں میں رمضان اور قیام کا اثر کیسے قائم رہ سکتا ہے؟

(1)۔ اللہ عزوجل کی عظمت کا احساس رکھیں
• آپ جب بھی قرآن میں اللہ کے اسماء اور صفات میں سے کوئی نام یا صفت پڑھیں تو آپ پر واجب ہے کہ آپ اللہ کی تعظیم بجا لائیں۔
• پس جب آپ اس کی تعظیم بجا لائیں گے تو آپ کے دل پر اللہ سبحانہ کی صفات وارد ہوں گی یہ چیز آپ کے دل میں ان اثرات کو جما دے گی جو آپ نے رمضان میں حاصل کیے ہیں۔

(2)۔ فرائض میں احسان کے عمل کو لازم کریں
• اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا () وَإِذًا لَآتَيْنَاهُمْ مِنْ لَدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا () وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (النساء:66-68) اور اگر وہ واقعی اس پر عمل کرتے جو انھیں نصیحت کی جاتی ہے تو یہ ان کے لیے بہتر اور زیادہ ثابت قدم رکھنے والا ہوتا۔ اور اس وقت ہم یقینا انھیں اپنے پاس سے بہت بڑا اجر دیتے۔ اور یقینا ہم انھیں سیدھے راستے پر چلاتے۔
• پس یہ چیز آپ کے لیے ثابت قدمی کا سبب بنے گی اور یہ آپ کے لیے نیک اعمال میں اضافے کا اور نیکیاں کرنے کا سبب بنے گی۔

(3)۔نیک لوگوں کی صحبت اختیارکریں
• ایسے شخص کی صحبت اختیار کریں جو آپ کو اللہ کی اطاعت اور عبادت سے مشغول نہ کرے اور وہ ایمان جو آپ کو حاصل ہوا ہے اس کو آپ کے لیے گدلا نہ کرے۔
• اور آپ اپنے معاملات اس شخص کے ساتھ کریں جس کے ساتھ آپ کے معاملات کرنا لازم کر دیا گیا ہو اس بات سے بچ کراور محتاط رہ کر کہ وہ آپ کے لیے دنیا کو پسندیدہ نہ بنا دے اور آپ کو دنیا حاصل کرنے پر اکسانے نہ لگ جائے۔
• پس یہ آپ کے ثابت قدم رہنے کے لیے ایک اہم عنصر ہے اس طریقے کے لیے جس پر آپ رمضان کے مہینے میں چلتے رہے ہیں۔

(4)۔ نفس کی کمزوری کے نقاط کا جائزہ لیتے رہیں
• جب آپ اپنی کمزوری کا نقطہ پہچان لیں اور آپ دل میں ارادہ کرلیں کہ آپ نے اس کا مقابلہ کرنا ہے تو آپ کثرت سے اللہ کا ذکر کریں کیونکہ ذکر آپ کو طاقت ور بنا دے گا اور آپ کو کمزوری کے نقطے سے آگے لے جائے گا۔
• پھر آپ کے نفس سے وہ خواہش نکل جائے گی (جو آپ کو کمزور بناتی ہے) اور یہی تقویٰ کا مقصد ہے۔

(5)۔ دعا کریں
• آپ یہ دعا کثرت سے دعا مانگتے رہیں : يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما۔
• اور آپ دعا مانگتے رہیں : رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا … (آل عمران:8) اے ہمارے رب ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر، اس کے بعد کہ تو نے ہمیں ہدایت دی۔
• پس یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ثابت قدمی پر قائم نہ رہنے سے ڈرتے ہیں اور یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ آپ ثابت قدمی کے معاملے کو اہمیت دیتے ہیں۔

اور یہ اللہ کا طریقہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو اہمیت دیتا ہے اور وہ اس میں سچا ہوتا ہے تو اللہ اس کو وہ چیز عطا کر دیتا ہے۔

HAMAISHA ALLAH K SHUKAR GUZAR RAHO


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ہمیشہ اللہ کے شکر گزار رہو” ایک تبصرہ

  1. آپ کی پوسٹ بہت پسند آئی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو برکتوں سے نوازے آمین یارب العالمین

اپنا تبصرہ بھیجیں