618

داستان


وہ شہزادیوں جیسی تھی
سب سے حسین شاہزادی تھی

اتنی حسین کہ لوگ دیکھتے رہ جاتے
آنکھیں خیرہ ہو جاتیں

اس نے ایک خوبصورت غلام سے شادی کی تھی
اور اسے آزاد نہیں کیا تھا

اس نے لوگوں کی خدمت کی تھی پورے دل سے
اس نے دشمنی مول لی سلطان سے غلام کے لیے

اور دوست بنائے عام لوگوں میں
اور بالآخر اس نے خود کو آزاد کر دیا

ناکردہ گناہوں کے بوجھ سے
ماضی کے غم سے

مستقبل کے غم سے
وہ اس حال میں جائے گی اس دنیا سے

کہ وہ تیار ہے ہر الزام کا مقابلہ کرنے کے لیے
بہادری سے…..

شہزادی


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں