711

عشق سے پیدا نوائے زندگی…. علامہ محمد اقبال


عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوز دمبدم

آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق
شاخ گل میں جس طرح باد سحرگاہی کا نم

عشق

اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاج ملوک
اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جم

دل کی آزادی شہنشاہی شکم سامان موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم

اے مسلماں اپنے دل سے پوچھ ملا سے نہ پوچھ
ہو گیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم

بال جبریل
علامہ محمد اقبال


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

عشق سے پیدا نوائے زندگی…. علامہ محمد اقبال” ایک تبصرہ

  1. اسلام وعلیکم
    ہمیں اپنی بنیاد (دینِ حق) اسلام کی طرف واپس آنا ہو گا جسکی وجہ سے پاکستان کا بنا تھا ، پاکستان کا مطلب کیا لاالہٰ اللہ ، یہ نعرہ لگا تھا پاکستان کے حصول کےلیئے تو پاکستان بننے کے بعد اس نعرہ کی تکمیل کرنی تھی ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ ، مطلب یہ کہ پاکستان کو چلانا تھا خلافتِ راشدہ کے اصولوں کے تحت اور قرآن پاک کو پاکستان کا آئین ہونا چاہیئے تھا اور پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی مملکت بنانا تھا
    لیکن
    لیکن یہ ہو نہ سکا
    پاکستان کے عوام کو آج کہاں ہونا چاہیئے تھا اور وہ کہاں پہنچ گئے

اپنا تبصرہ بھیجیں