693

ہم کبھی شعر کہا کرتے تھے


بات پھولوں کی سنا کرتے تھے
ہم کبھی شعر کہا کرتے تھے

مشعلیں لے کے تمہارے غم کی
ہم اندھیروں میں چلا کرتے تھے

بات پھولوں

اب کہاں ایسی طبیعت والے
چوٹ کھا کر جو دعا کرتے تھے

ترکِ احساسِ محبت مشکل
ہاں مگر اہل وفا کرتے تھے

بکھری بکھری ہوئی زلفوں والے
قافلے روک لیا کرتے تھے

آج گلشن میں شگوفے ساغر
شکوۂ باد صبا کرتے تھے

ساغر صدیقی

HUM KABHI SHAIR KAHA KERTE THY


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں