607

اولاد کو گھر سے ہی پیار اور اعتماد دیں


بچوں کو الله کی پناہ
بچوں کو الله کی پناہ

بچوں کی تربیت کے حوالے سے کرنے کے کاموں میں آج بس یہ چھوٹی سی لسٹ!
گلے لگانا:
کہیں ایک ریسرچ میں پڑھا تھا کہ انسان کو دن میں کم از کم آٹھ بار hug کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنی تو چلیں چھوڑیئے لیکن اپنے بچوں کی اس ضرورت کا خیال کریں۔ میرے جیسی ماں کو ہر پونے گھنٹے کا الارم لگانا پڑتا ہے تا کہ کام میں لگ کر بھول نہ جاؤں۔ لمس سے ایک محبت، ایک گرماہٹ کا احساس دل میں جاگتا ہے، تحفظ کا احساس ہوتا ہے، بچے میں self esteem بڑھتی ہے۔ ایک اور ریسرچ کے مطابق hug اتنا لمبا ضرور ہو کہ آپ آرام سے دس تک گنتی گن سکیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ دو زانو ہو کر بچے کے لیول پر آ کر اسکو گلے لگائیں تا کہ وہ بھی آپ کے گلے میں بازو ڈال کر آپ کو hug back کر سکے۔
آئی کانٹیکٹ:
آئی کانٹیکٹ کسی بھی رشتے میں‌ ازحد ضروری ہے اور سکرین کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ہمیں خود تو برا لگتا ہے کہ شوہر ٹی وی کی طرف دیکھتے دیکھتے ہی جواب دیتے ہیں، ہم نظرانداز ہو رہے ہیں، لیکن وہی ہم ہانڈی میں چمچہ ہلاتے ہوئے بچوں سے بات کر رہے ہوتے ہیں، دور سے ہی سوال جواب چل رہے ہوتے ہیں۔ سارا دن تو ممکن نہیں لیکن اصول بنا لیں کہ رات کے کھانے پر ہر طرح کی سکرین آف ہو، یا سونے سے پہلے کچھ دیر آئی کانٹیکٹ کر کے دن بھر کی روداد شیئر کی جائے اور پھر بچوں سے بھی پوچھا جائے کہ کیسا دن گزرا۔
بوسہ لینا:
چھوٹے بچوں کو تو ہم بار بار گود میں اٹھاتے ہیں، بار بار پیار کرتے ہیں لیکن جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے، ایک فاصلہ غیر محسوس طریقے سے حائل ہوتا جاتا ہے۔ اب کئی کئی دن اسکو بوسہ نہیں دیا جاتا۔ بظاہر نہ آپ کو کوئی کمی محسوس ہوتی ہے اور نہ انہیں لیکن کہیں نہ کہیں ایک کمی سی رہ جاتی ہے۔ یہ کمی نہ رہنے دیں! بچے کو جب گلے لگائیں تو ماتھے پر پیار سے بوسہ دے دیں۔ اسے اچھا لگے گا۔ آپکو بھی اچھا لگے گا!
محبت کسی بھی رشتے میں ہو، اظہار اور تجدیدِ اظہار مانگتی ہے۔ کتنی ہی بار ہم یہ شکوہ اپنے شوہر سے کرتے ہیں کہ آپ بدل گئے ہیں۔ اب آپ ویسے پیار نہیں کرتے جیسے شادی کے شروع میں کرتے تھے۔ زبان سے نہ کہیں تو بھی دل میں محسوس کرتے ہیں۔ لیکن بعینہ وہی سب بچوں کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ چھوٹے بچے کو چوم چوم کر اسکو تنگ کر دیتے ہیں، اور بڑے بچوں کے لئے ہمیں یاد ہی نہیں رہتا کہ محبت انکی بھی ضرورت ہے۔ اظہار کیوں نہیں کرتے؟ کیوں نہیں بتاتے اپنی اولاد کو کہ وہ ہماری زندگی کا محور ہے؟ ہماری خوشی اسکی مسکراہٹ سے مشروط ہے۔ اسکے چہرے پر ذرا سی پریشانی ہامری جان نکال دیتی ہے۔ وہ ہمیں ہر ایک سے زیادہ عزیز ہے۔ جب hug کریں تو دس تک گنتی گننے کی بجائے اسوقت انہیں ایک آدھا جملہ پیار سے بول دیں۔ پھر آئی کانٹیکٹ کر کے ماتھے پر بوسہ دیں اور پندرہ سیکنڈ میں آپکے تینوں “کام” ہو جائیں گے۔
جو لوگ اپنے بچوں کو جھپی نہیں ڈالتے، بوسہ دینے کی عادت نہیں، وہ ایک سے شروع کریں۔ جھجک آئے تو بھی کوشش کریں اور آہستہ آہستہ ڈوز بڑھاتے جائیں۔ آپکو فرق خود ہی محسوس ہو گا۔ محبت کا یہ اظہار روزانہ کی بنیاد پر اسلئے بھی ضروری ہے کہ محبت ہم سبھی کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب گھر سے نہیں ملتی تو کہیں اور ڈھونڈنی پڑتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ہماری اولاد کو گھر سے ہی اتنا پیار اور اعتماد ملے، انہیں محبت کے لئے کسی اور کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔ آپکو نہیں معلوم کہ گھر سے باہر کی دنیا کا کوئی شخص انہیں محبت دے گا تو واپسی میں کیا ڈیمانڈ کرے گا۔ محتاط رہیں۔ وقت کی نزاکت کا خیال رکھیں۔

OLAD KO GHAR SE HI PYAR AUR AITMAD DYN


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں