865

ماں کبھی خفا نہیں ہوتی


ماں کبھی خفا نہیں ہوتی

تمام دن میں انکے پیچھے
دوڑتی ہوں ۔۔۔
اور وہ دوڑتے ہیں میرے پیچھے۔۔۔۔
میں کہتی ہوں نکلو نکلو کچن سے نکلو۔۔۔۔
کام کرنا ہے مجھے ، نکلو
اور وہ میری ٹانگوں سے چپک جاتے ہیں۔۔۔
میں نکالتی ہوں ان کو کھینچ کر۔۔۔
روتے ہیں چلاتے ہیں۔۔۔
اور پھر دونوں کھیلنے لگ جاتے ہیں۔۔۔
اور پھر جیسے انہیں یاد آجاتا ہے ۔۔
ماما پاس نہیں ہیں۔۔۔۔۔
واپس کچن میں دوڑتے ہیں۔۔۔
برتن اٹھاتے ہیں ۔۔۔
پٹخ دیتے ہیں۔۔۔
نکلو نکلو۔۔۔۔۔
اور ایسے ہی شام سے
رات ہو جاتی ہے۔۔۔۔
بھئی سوتے کیوں نہیں تم دونوں
تھک چکی ہوں میں۔۔۔
کاموں میں۔۔۔ اور۔۔۔
تم دونوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے
ماما ماما ایک کہانی اور سنائیں گی؟؟؟
نہیں سو جاؤ آپ چپ کر کے۔۔۔۔
بڑے والے نے آنکھیں بند کر لی ہیں ۔۔۔
اور چھوٹی بھی نیند میں ہے۔۔۔۔۔۔
ہائے کتنی ویرانی ہے ۔۔۔۔
کتنی خاموشی ہے۔۔۔۔۔
دونوں سو چکے ہیں۔۔۔
شور نہیں ہے۔۔۔
اک سناٹا ہے۔۔۔۔
میں کبھی ایک کو دیکھتی ہوں۔۔
کبھی دیکھتی ہوں دوسری کو۔۔۔۔
یاد آتا ہے ۔۔۔ کتنا ڈانٹا ہے
سارا دن ان معصوموں کو
دل ڈوب جاتا ہےکہ اب
ان کے چپ ہونے سے
کیسی وحشت ناک خاموشی ہے!
اور میں خود کو کوسنے لگتی ہوں۔۔۔
سوری میرے بچوں
ماما کتنی ظالم ہیں !!!
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ہوتے ہی
کاموں کی ایک لمبی فہرست۔۔۔۔
میں اور بچے۔۔۔۔ نکلو نکلو!

MAAN KABHI KHAFA NAHI HOTI


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں