681

مجھے تم سے نہیں ملنا


مجھے تم سے نہیں ملنا
نہیں ملنا مجھے تم سے

نہ تم کو یاد کرنا ہے
نہ کوئی بات کرنی ہے

تمہارا ذکر کرنا ہے
نہ ہرگز فکر کرنی ہے

تمہاری سوچ میں نہ اب
کوئی اک پل بتانا ہے

کوئی سپنا سجانا ہے
نہ اب آنسو بہانا ہے

خیال و خواب میں تم کو
نہ اب ہرگز بلانا ہے

نہ کوئی نظم لکھنی ہے
نہ کوئی شعر کہنا ہے

نہ ہرگز راہ تکنی ہے
نہیں اب چاہ کرنی ہے
نہ کوئی آہ بھرنی ہے

تمہارا غم نہیں کرنا
سنو ہمدم! نہیں کرنا

جفاؤں کا, وفاؤں کا
گئی گزری بہاروں کا
رواجوں اور اصولوں کا
کوئی قصہ نہیں سننا

تمہارا نام لکھ لکھ کر
نہ اب پل پل مٹانا ہے

جو یوں روٹھے ہوئے ہو تم
تمہیں نہ اب منانا ہے

تمہیں آواز دینی ہے
نہ ہی واپس بلانا ہے

نہیں ملنا مجھے تم سے
مجھے تم سے نہیں ملنا

Mujhay Tum Say Nahin Milna


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں