587

اللہ ہم سب کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرماۓ


کسی بزرگ نے کہا کہ: “اللہ آپ کو آسانیاں بانٹنےکی توفیق عطا کرے”
جواب دیا کہ ہم زکوٰۃ دیتے ہیں ، صدقہ دیتے ہیں ، کام والی کے بچے کو تعلیم دلوا رھے ھیں، ہم تو کافی آسانیاں بانٹتے ھیں

جواب ملا ;
کسی اداس اور مایوس کے کندھے پے ہاتھ رکھ کے اس کی لمبی بات تسلی سے سننا آسانی ہے۔
کسی بیوہ کی بیٹی کے رشتے کی تگ ودو کرنا آسانی ہے۔
آفس جاتے ہوے روز کسی یتیم بچے کو اسکول لے جانا آسانی ہے.
اپنی بھوک کے وقت دوسروں کی بھوک کا سوچنا آسانی ھے۔

سسرال کو اتنی عزت دینا جتنی داماد کو دیتے ھیں آسانی ہے۔
کسی بپھرے آدمی کی غلط بات برداشت کرکے اسکا غصه ٹھنڈا کرنا آسانی ہے۔
کسی کی غلطی پر پردہ ڈالنا آسانی ہے۔
ویٹر سے تمیز سے پیش آنا اور اپنے ملازم کی خوشی کا خیال رکھنا آسانی ہے۔

Assani

چھابڑی والے کو دام سے کچھ اوپر دے دینا آسانی ہے۔
بے آسرا کے بچوں کا حال پوچھنا بھی آسانی ہے۔
ہسپتال میں اپنے مریض کی دیکھ بھال کے ساتھ، انجان مریض کے پاس بیٹھ کےتسّلی دینا بھی آسانی ہے۔
ٹریفک میں ایسے شخص کو برداشت کرنا جس کی بائیک آپ کے آگے بند ہو جاۓ، ھارن نه دینا یہ آسانی ہے۔

آسانی گھر سے ہی شروع کریں ،
آج واپس جا کے گھر کی بیل ایک دفعہ دے کے تھوڑا انتظار کریں۔
باپ کی ڈانٹ ایسے سنیں جیسے دوست کا لطیفه یا محبوبه کی گفتگو سنتے ہیں۔
ماں کی آواز کو اذان جاننا آسانی ھے .

جسے کوئی نه پوچھتا ھو اس کی خبرگیری آسانی ھے.
مانگنے والے کا بھرم رکھنا , دیتے ھوئے اسکی آنکھ میں نه جھانکنا آسانی ھے
بہن کی ضرورت اس کیے مطالبے سے پہلے اور بھائی کی تقاضے سے قبل پوری کر دیں۔
بیگم کی غلطی پر اس کو سب کے سامنے درست نہ کریں۔

سالن اچھا نہ لگے تو شکایت نہ کریں ،
استری ٹھیک نہ ہو تو صبر کر لیں۔
اپنا اور دوسروں کا راستہ آسان بنائیں۔
منزل خود ہی مل جاۓ گی۔

اللہ ہم سب کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرماۓ.
آمین.

ALLAH HUM SAB KO ASANIYAN BANTNE KI TOFEEQ ATA KARE


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں