633

شکر گزاری اور ناشکری


وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكُمۡ لَٮِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ‌ وَلَٮِٕنۡ كَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِىۡ لَشَدِيۡدٌ‏ ﴿۷﴾

اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کہ) میرا عذاب بھی سخت ہے
سورة إبراهيم ﴿۷﴾

شکر گزاری اور ناشکری

خدا کے ساتھ بندوں کا تعلق دو طریقوں سے پیدا ہوتا ہے۔ مصیبتوں پر صبر کرنا اور نعمتوں پر شکر کرنا۔ لیکن ہم میں اکثر شکرگذاری کو محض زبانی معاملہ سمجھتے ہیں کہ صرف الحمد للہ، یا اللہ تیرا شکر ہے وغیرہ کہہ کر سمجھ لیتے ہیں کہ شکر ادا ہوگیا۔ عین ممکن ہے کہ ہم زبان سے خدا کا شکر کر رہے ہوں اور خدا کے ہاں ہمارا نام ناشکروں میں لکھا ہوا ہو۔ اگر ایسا ہو تو ہم زندگی کے آدھے امتحان میں ناکام ہوگئے۔ اللہ کی نعمتیں کھا کھا کر دانت ٹوٹ گئے مگرزبان اس کی ناشکری سے باز نہیں آتی کبھی نا شکری کا انجام دنیا میں ہی دکھا یا جاتا ہے اور کبھی آخرت میں ، ناشکری کی سزا بہر حال ملتی ہے۔ کتنی بستیاں آباد تھیں اور مختلف نعمتوں میں پل رہی تھیں لیکن وہاں کے باشندوں نے جب نا شکری کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے نعمتوں کو چھین لیا اور وہ برباد ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی طرح کی ایک بستی کی مثال بیان فرمائی ہے:

وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلاً قَرۡيَةً كَانَتۡ اٰمِنَةً مُّطۡمَٮِٕنَّةً يَّاۡتِيۡهَا رِزۡقُهَا رَغَدًا مِّنۡ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتۡ بِاَنۡعُمِ اللّٰهِ فَاَذٰقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الۡجُـوۡعِ وَالۡخَـوۡفِ بِمَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ‏ ﴿۱۱۲﴾
اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا۔ مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا
سورة النحل ﴿۱۱۲﴾

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی بندے پر نعمت کی اوراس نے الحمد للہ کہاتو اس نے نعمت کا شکر اداکردیا ،اور اگر دوسری بار الحمد للہ کہا تواللہ تعالیٰ اسے نیا ثواب عطاء فرمائے گا اور تیسری بار الحمدللہ کہا تو اللہ تبارک وتعالیٰ اسکے گناہ معاف فرمادیگا۔ شکر لازم ھے اگر چاھتے ھو کہ اور ملے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کی تین درجات ہیں۔

ایک یہ کہ اللہ کی نعمتوں کے نعمت ہونے کا احساس دل میں پیدا ہو
دوسرا درجہ یہ ہے کہ اس احساس کے پیدا ہونے پر انسان اپنی زبان سے بھی اللہ کا شکر ادا کرے
تیسرا درجہ یہ ہے کہ زبان کے علاوہ اپنے عمل سے بھی شکر ادا کرے

حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے، جب وہ شکر کریں تو اللّٰہ تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ نا شکری کریں تو اللّٰہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔
(رسائل ابن ابی دنیا، کتاب الشکر للّٰہ عزّوجلّ، ۱ / ۴۸۴، الحدیث: ۶۰)

Shukar Karo Gy To Mein Tumhein Zayada Dun Ga
Agar Na Shukri Karo Gy To Mera Azaab Bhi Sakhat Hai
;If ye give thanks, I will give you more
but if ye are thankless, lo! My punishment is dire
﴿Surah Ibrahim ﴾7


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں