867

آرزوئیں فضول ہوتی ہیں

آرزوئیں فضول ہوتی ہیں
گویا کاغذ کے پھول ہوتی ہیں

ہر کسی نام پر نہیں رکتیں
دھڑکنیں با اُصول ہوتی ہیں

پتھروں کے خُداؤں کے آگے
اِلتجائیں فضول ہوتی ہیں

کوئی میرے لبوں کو بھی لا دے
جو دُعائیں قبول ہوتی ہیں

خواب ٹوٹیں یا بِکھر جائیں
قِیمتیں کب وصول ہوتی ہیں

Arzooen Fzool Hoti Hen
Goya Kagiz Kay Phool Hoten Hen
Her Kisi Naam Per Nahi Rukten
Dharknen Ba Usool Hoti Hen

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں