مجھ کو فقط ایک دکھا دو !!!


دو چار نہیں مجھ کو فقط ایک دکھا دو !!!
وہ شخص جو اندر سے بھی با ہر کی طرح ہو

انسان اور دوغلےپن کا رشتہ عرصہ دراز سے چلا آ رہا ہے لیکن آج کل یہ بات اتنی عام ہو چکی ہے کہ ہر کسی کی زبان اور عمل سے ظاہر ہوتی ہے اور کبھی کبھی تو آپ کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ جو جملے آپ اپنے لئے سامنے والے کے منہ سے سُن رہے ہیں آیا وہ واقعی حقیقت پر مبنی ہیں یا ان کو جھوٹ کے شیرے میں لپیٹ کر آپ تک پہنچایا گیا ہے۔ کچھ لوگوں میں منافقت نے اپنی جڑیں اس حد تک مضبوط کر رکھی ہیں کہ اس کے بغیر ان کا کسی سے بات کرنا ایسا ہے کہ”آبیل مجھے مار”۔ بندہ جب منافقت کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کرتا ہے تو اُسے ہر قدم پر جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ منافقت آج کے دور کی ایک اہم ضرورت بن گئی ہے۔ اور وہ لوگ ہیں جو مطلب کے لئے آپ سے دوستی تو کر لیتے ہیں لیکن دل کو دوستی پر آمادہ نہیں کر پاتے۔ وقت بہ وقت ضرورت کے تحت آپ کو استعمال کرتے ہیں لیکن جب کبھی آپ کو ان کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ بڑی آسانی سے کوئی بہانہ بنا کر اپنا دامن جھاڑ لیتے ہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ان کا اصلی چہرہ آپ کے سامنے ہوتا ہے۔ بقول شاعر:

مرحلہ دشوار آیا تو ظرف سب ہی کے کھُل گئے
لوگ جیسے دِکھ رہے تھے، ایک بھی ویسا نہ تھا!

Do Chaar Nahin Mujh Ko Faqt Aik Dikha Do
Wo Shaks Jo Andar Say Bhi Bahar Ki Tarha Ho


اپنا تبصرہ بھیجیں