1,025

معافی کا مطلب گلے لگانا نہیں

معافی کا مطلب گلے لگانا نہیں بلکہ
یہ عہد ہے کہ جو اذیت اس نے مجھے دی
وہ میں نے اسکو نہیں دینی

معافی کا مطلب گلے لگانا نہیں

معاف وہی کر سکتا ہے، جو معافی مانگنا جانتا ہو، جو معافی مانگنے کےعمل سے گزرا ہو؛ جس کا سر کبھی خطا کرنے کے بعد، بوجہ ندامت کسی کے سامنے جھکا ہو، جس کی آنکھیں آنسوؤں سے پرنم ہوئی ہوں اور جس کے کندھے خطا کے بوجھ تلے جھکے ہوں۔کیونکہ وہ ان لطیف جذبات کی قدروقیمت جانتا ہے-

ہمارا دین کہتا ہے کہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں سے زیادہ دیر تک ناراض نہ رہو اور کوشش کرو کہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے قصور معاف کر دو ، اُن کے لیے دل میں بغض نہ رکھو ، اُن کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آئو ، اگر کوئی غلط کر رہا ہے تو اُس کو سمجھائو نا کہ اُس سے بدلہ لو اور اُسے جگہ جگہ ذلیل کرو۔ وہ کیسا مومن/مسلمان ہے جس کے ہاتھ و زبان سے دوسرا مومن و مسلمان محفوظ نہ رہے۔

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ( مسلمان) کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق کرے دونوں آپس میں ملیں تو یہ اس سے منہ موڑے اور وہ اس سے منہ موڑے اور ان دونوں میں سے بہتر وہ آدمی ہے کہ جو سلام کرنے میں ابتداء کرے۔صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2031

اپنے بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے :

الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴿آل عمران: ١٣٤﴾
جو لوگ آسانی میں سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے (134)سورة آل عمران)

عن أبي هريرة عن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال ما نقصت صدقة من مال وما زاد الله عبدا بعفو إلا عزا وما تواضع أحد للہ إلا رفعه اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کے معاف کر دینے سے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتا ہے اور جو آدمی بھی اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے۔
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2091

اچھا انسان وہی ہے جو معاف کرنا جانتا ہے اور انسان، انسان کو ایسے معاف کرے جیسے اللہ تعالی سے اُمید رکھتا ہے کہ وہ ہمیں معاف کر دے- دوسروں کی اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی بھی اصلاح بھی کرنی چاہیے- غلطیاں سب سے ہوتی ہیں- ہم میں سے گناہوں سے پاک کویُ بھی نہیں ہے- خود کو اونچا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا یہ مومن مسلمانوں کا کام نہیں۔ ناراض اور دل برداشتہ ہوکر رشتوں کو ختم کردینے میں جلدی دکھانا ایک بزدلانہ روش ہے، بار بار معافی مانگ کر اور ہر بار معاف کرکے رشتوں کے سفر کو خوب صورتی کے ساتھ جاری رکھنا ہمت اور بہادری کی بات ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

عن سهل بن معاذ عن أبيه أن رسول الله صلی الله عليه وسلم قال من کظم غيظا وهو قادر علی أن ينفذه دعاه الله عز وجل علی روس الخلاق يوم القيامة حتی يخيره الله من الحور العين ما شا قال أبو داود اسم أبي مرحوم عبد الرحمن بن ميمون
حضرت سہل بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے غصہ کو پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو اللہ تعالیٰ روز قیامت ساری مخلوقات کے سامنے اسے بلائیں گے اور اسے اختیار دیں گے جو حور تو چاہے پسند کرلے امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ ابی مرحوم کا نام عبدالرحمن بن میمون تھا۔
سنن ابوداؤد:جلد سوم:حدیث نمبر 1374

Muafi Ka Mtlb Glay Lgana Nahi Blkeh
Ye Ehd Hay Keh Jo Azziyat Is Nay Mjhy Di
Wo Me Nay Isko Nahi Deni

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں