4,517

سچ اور جھوٹ


سچے انسان کے لیے”جھوٹ” میں
کوئی اچھا مقصد ہوتا ہے
لیکن جھوٹے انسان کا “سچ” صرف
آگ لگانے کے لیے ہوتا ہے

سچ اور جھوٹ

جھوٹا آدمی سچ بولنے لگے تو سمجھ لیجئے کہ سچائی خطرے میں ہے ۔سچ تو وہی ہوتا ہے جو سچے انسان کی زبان سے ادا ہوتا ہے ۔جھوٹے انسان کا سچ منافقت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے
سچے انسان کے لیے’’جھوٹ” میں کوئی اچھا مقصد ہوتا ہے لیکن جھوٹے انسان کا ’’سچ” صرف آگ لگانے کے لیے ہوتا ہے۔

در اصل انسان کا کردار اُس کے اندازِ فکر پر مبنی ہوتا ہے۔اندازِ فکر اچھا ہے تو کردار کا اچھا ہونا لازم ہے۔انسان کے نظریات ہی اس کے کردار کی تشکیل کرتے ہیں۔اچھائی اور برائی ہی کو لے لیں۔ جو کام اچھی سوچ والے انسان کے لیے اچھا ہے وہی کام برا اندازِ فکر رکھنے والے انسان کے لیے برا ہے۔ جھوٹے انسان کو سچ بولنا زہر لگتا ہے۔اور سچے انسان کو جھوٹ بولنا اچھا نہیں لگتا۔اگر نیت ٹھیک ہو تو ہی عمل کو قبولیت حاصل ہوتی ہے۔کھیل سارا اندازِ فکر کا ہے ہماری سوچ کا۔

جھوٹ بولنے سے انسان باطنی طور پر کھوکھلا ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے۔ جھوٹ سے انسان اپنے کردار کی مضبوطی کھو دیتا ہے۔

بعض لوگ مذاق میں جھوٹ بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مذاق میں جھوٹ بولنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ احادیث مبارکہ میں مذاق میں بھی جھوٹ بولنے سے منع کیا گیا ہے۔ مزاح کی حس قابل تعریف ہے، لیکن اس میں جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں۔ بعض لوگ مسکراہٹ کی آڑ میں جھوٹ بولتے ہیں کہ مسکراہٹ ان کے جھوٹ پر پردہ ڈال دے گی، لیکن اللہ تعالیٰ تو جو کچھ سینوں میں ہے، اس کو بھی جاننے والاِ ہے۔ مزاح میں جھوٹ بولنے کے حوالے سے رسول اللہؐ کا یہ فرمان ملاحظہ ہو۔ بہز بن حکیم بواسطہ اپنے والد کے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے مزاح کے طور پر جھوٹ بولنے والے شخص پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہلاکت ہے ایسے شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے اپنے بیان میں جھوٹ بولے۔ ہلاکت ہے اُس کے لیے، ہلاکت ہے اُس کے لیے!‘‘ (سنن ترمذی و ابوداؤد)

زندگی کے چند ایک امور ایسے ہیں جن میں جھوٹ بولنے کی معمولی گنجائش موجود ہے۔ ایسے امور جہاں جھوٹ بولنے کی چھوٹ ہے وہاں ہم بڑی بہادری سے سچ بولتے ہیں۔ اگر جھوٹ بولنے سے فریقین میں صلح ہورہی ہو تو وہاں جھوٹ کا سہارا لیا جا سکتا ہے، لیکن اس مقام پر عموماً سچ کو اختیار کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں مصالحت نہ ہو سکے۔

Sachay Insan Kay Liye Jhoot Mein
Koi Acha Maksd Hota Hay
Lekin Jhootay Insan Ka Sach Sirf
Aag Lganay Kay Liye Hota Hay


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں