حسد، ایک زہر جسے انسان خود پیتا ہے


حسد ایک زہر ہے
جسے انسان خود پیتا ہے اور
توقع دوسرے کے مرنے کی کرتا ہے

حسد ایک ایسا زہر ہے جو اانسان خود پیتا ہے اور توقع دوسرے کے مرنے کی کرتا ہے- حسد کا مطلب ہے کہ ’’کسی دوسرے کی خوش حالی پر جلنا اور تمنا کرنا کہ اس کی نعمت اور خوش حالی دور ہوکر اسے مل جائے۔‘‘-

حاسد وہ ہے جو دوسروں کی نعمتوں پر جلنے والا ہو۔ وہ یہ نہ برداشت کرسکے کہ اللہ نے کسی کو مال، علم، دین، حسن ودیگر نعمتوں سے نوازا ہے۔ بسا اوقات یہ کیفیت دل تک رہتی ہے اور بعض اَوقات بڑھتے بڑھتے اس مقام تک آپہنچتی ہے کہ حاسد (حسد کرنے والا) محسود (جس سے حسد کیا جائے) کے خلاف کچھ عملی قدم اٹھانے پہ آ جاتاہے۔ اس کی کیفیات کا اظہار کبھی اس کی باتوں سے ہوتا ہے اور کبھی اس کا عمل اندرونی جذبات و اِحساسات کی عکاسی کرتا ہے۔حسد کی کیفیت جب تک حاسد کے دل ودماغ تک محدود رہے ، محسود کے لیے خطرہ کا باعث نہیں بنتی بلکہ وہ سراسر حاسد کے لیے ہی وبالِ جان بنا رہتاہے اور یوں وہ اپنی ذات کا خود ہی بڑا دشمن بن بیٹھتاہے، لیکن جب وہ اپنی جلن کو کھلم کھلا ظاہر کرنے لگے تو یہی وہ مقام ہے جس سے پناہ مانگنے کے لیے خالق ارض و سماء نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے:

{وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدٍ} (الفلق:۵)
’’(میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگی۔‘‘

ایک اور جگہ فرمایا
{أمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰی مَآ اٰتٰھُمُ اﷲُ مِنْ فَضْلِہٖ}(النساء :۵۴)
’’کیا وہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے ان کواپنے فضل سے عطا کیا ہے۔‘‘

حسد کی مذمت میں نبی اکرم ﷺسے مختلف اَحادیث مروی ہیں،
’’کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوسکتے۔‘‘ (سنن نسائی:۲۹۱۲)

سب سے پہلا جو گناہ سرزد ہوا وہ حسد تھا، جو ابلیس نے سیدنا آدم علیہ السلام سے محسوس کیا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سمیت ابلیس کو آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے کہا۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں:
{قَالَ اَنَا خَیْرٌمِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ} (ص:۷۶)
’’کہا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیاہے اور اس کو مٹی سے تخلیق کیا ہے۔‘‘

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس کا ڈر بالکل نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے البتہ میں اس بات کا اندیشہ کرتا ہوں کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے دنیا کے مزوں میں پڑ کر حسد نہ کرنے لگو ۔ ( صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1218)

ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ بھلائی سے رہیں گے جب تک وہ حسد سے بچتے رہیں گے۔(طبرانی فی الکبیر ۷۱۵۷)

ایمان والے کے لیے سب سے زیادہ پر سکون یہ ہے کہ وہ اپنے دِل کو حسد کی جلن سے، وسوسوں، غموں اور پریشانیوں سے محفوظ رکھے ، اگر کوئی نعمت ملے تو اس میں اپنے دوسرے مسلمان بھائی بہنوں کو بھی شامل کرنے کا حوصلہ رکھے ، اور خود پر اللہ کی نعمتوں کا احساس رکھے ، اللہ کے سامنے اپنے فقر کا احساس رکھے ، اور اگر مخلوق میں سے کسی کو کسی مشکل میں دیکھے تو اس کا درد محسوس کرے اور اللہ کا شکر ادا کرے کہ اللہ نے اسے اس مشکل سے بچا رکھا ہے اور مشکل زدہ کے لیے اللہ سے اُمید کرے کہ وہ اس کی مشکل بھی دُور فرمائے –

HASAD
Aik Zehr Hay
Jisay Insan Khud Pita Hay Aur
Twaqqu Doosray Kay Mrnay Ki Krta Hay


اپنا تبصرہ بھیجیں