578

ابلیس اور اسکی خواہشات


وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰۤٮِٕكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاَدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ كَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهٖؕ اَفَتَـتَّخِذُوۡنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗۤ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِىۡ وَهُمۡ لَـكُمۡ عَدُوٌّ ؕ بِئۡسَ لِلظّٰلِمِيۡنَ بَدَلاً‏ ﴿۵۰﴾
اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔ کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے
سورة الكهف ﴿۵۰﴾

آج سورة الكهف پڑھتے ہوئے یہ آیت سامنے آگی جس میں اللہ نے ابلیس کا زکر کیا ہے- سوال یہ ہے کہ یہ ابلیس کون ہے؟ شیطان کون ہے؟ ابلیس جن تھا یا فرشتہ؟ اللہ پاک قرآن میں ابلیس کے بارے میں فرماتا ہے وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰۤٮِٕكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاَدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ كَانَ مِنَ الۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهٖؕ (اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا) رحمت الہٰی سے ملعون ہونے سے پہلے شیطان کا نام عزازیل تھا ۔ آدم کو سجدہ نہ کرنے اور حکم الہٰی کی خلاف ورزی کی پاداش میں اس کا نام ابلیس تجویز کردیا گیا ۔ شیطان بھی اسی ابلیس کو کہتے ہیں۔
قرآنِ مجید میں صاف لکھا ہوا ہے کہ ابلیس جنوں میں سے تھا۔
ابلیس کی پیدائش آگ سے بیان کی گئی ہے۔
فرشتوں کی اولاد (نسل) نہیں ہوتی جب کہ ابلیس کی اولاد ہے۔ ( سورۃ الکہف: ۵۰)
فرشتے ملائکہ ہونے کی صورت میں اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جب کہ ابلیس نے اللہ کی نافرمانی کی۔

ابلیس نے ایک روز دیکھا کہ لوحِ محفوظ پہ آسمانی زبان{غالب قیاس عربی} میں یہ تحریر لکھی ہوئی ہے “ہمارا ایک بندہ ہے جسے ہم انواح و اقسام کی نعمتوں سے مالا مال کریں گے، اسے زمین سے آسمان پر پہنچا دیں گے،آسماں سے پھر اسے جنت میں لے جائیں گے اسکے بعد اسے ایک خاص کام پہ معمور کریں گے لیکن وہ انکار کر دے گا اور بغاوت پر آمادہ ہو جائے گا”ابلیس کو یہ پڑھ کے سخت تعب اور حیرت ہوئی کہ ایسا کون بد نصیب ہو گا، ابلیس دوبارہ سجدے میں چلا گیا، سجدے سے سر اٹھا کے دیکھا تو اس عبارت کے ساتھ فصیح عربی میں یہ عبارت بھی تحریر تھی”آعوذ با اللہ من الشیطٰن الرجیم۔”ابلیس فوراّ بھاگتا ہو بارگاہِ الہیہ میں حاضر ہو اور پوچھا یہ شیطان رجیم، مردود کون ہے جس سے پناہ مانگنی چاہئیے؟ارشاد ہوا کہ ہے ایک جو ہماری نافرمانی کرے گا، اور مردود ہو جائے گا۔۔ابلیس نے سخت غصے میں ذاتِ باری تعالیٰ سے عرض کی ” اے پروردگار۔ مجھے وہ ملعون دکھا دے تا کہ میں ابھی اسے جہنم رسید کر دوں”جواب ملا” بہت جلد تُو اسے دیکھ لے گا” محترم قارئین، یہ بات واضع رہے کہ ابلیس کا نام اس واقعے تک “عزازیل” ہےابلیس اس وقعے کے بعد بہت عرصہ تک شش وپنج میں رہا کہ ایسا کون ہو سکتا ہے، کبھی خیال آتا کہ شاید میں ہی نہ ہوں، اگر میں ہی ہوا تو۔۔؟ اس خیال سے ابلیس نے فرشتوں کو پھر اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔اب ابلیس کے ساتھ ایک عجب معاملہ شروع ہو گیا، جب یہ سجدے سے سر اٹھاتا سجدے والی جگہ پہ “لعن الله على ابليس” لکھا نظر آتا مگر اپنے تئیں وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ اپنے اوپر ہی لعنت بھیج رہا ہے۔۔۔ یہ وہ دور ہے جب ذاتِ باری تعالیٰ نے فرشتوں سے اپنے نائب کا ذکر فرمایا، فرشتوں نے عرض کی تھی ذاتِ باری تعالٰی وہ زمیں میں فساد پھیلائے گا، مگر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔۔ ابلیس نےایک مرتبہ پھراس خیال سے فرشتوں کو ہم نوا بنانے کی کوشش کی کہ اگر میں نے بغاوت کی تو کوئی نہ کوئی ہم نوا ،ہم خیال ضرور ہوہونا چاہئیے، مگر تمام فرشتوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ وہ مشیتِ ایزدی،حکمِ الٰہی کے سامنے دم مارنے کی جرات نہیں رکھتے۔ ابلیس اس جواب سے بہت مغموم ہوا، مگر مشیتِ ربی تھی، ابلیس کی اس حرکت کے باوجود کوئی نوٹس نہ لیا گیا، معاملات اُسی طرح چلتے رہے۔

تخلیقِ آدمؑ : حضرت آدم علیہ السلام کا پُتلا تیار کیا گیا۔چونکہ تخلیقِ آدمؑ ، اور اس کے بعد والے واقعات کا کم و بیش ہر مسلمان کو علم ہے، لہٰذا کوشش ہو گی کہ صرف چیدہ چیدہ باتیں ہی تحریر میں لائی جائیں، ایک تو مضموں بہت ہی طویل ہو جائے گا، دوسرا اصل موضوع سے تھوڑا سے ہٹ جائے گا،قرآن پاک میں ذکر موجو ہے، تفسیر سے استفادہ کر سکتے ہیں،

حضرت آدمؑ کے پتلے کی تخلیق{سب کے لئیے یہ ایک نئی بات اور نئی چیز تھی} میں ،سر خاکِ مدینہ سے،گردن بیت المقدس کی خاک سے،سینہ عدن کی مٹی سے،پشت و شکم ہند{ہندوستان، پاک و ہند} کی مٹی سے،ہاتھ مشرق کی مٹی سے، پاوْں مغرب کی مٹی سے سے تخلیق فرمائے گئے،باقی گوشت پوست،خون وغیرہ تماام جہان کی مجموعی مٹی سے تخلیق فرمائے گئے، مصلحتِ ربی اس میں پوشیدہ تھی کہ آدم کی نسل مختلف خصائص و خوبیوں کے علاوہ مختلف اجسام اور شکلوں کی ہو گی۔بہت سی باتیں جو شاید روایات ہی ہیں یا حقیت، اللہ پاک ہی بہتر جانتے ہیں، سرسری سا تذکرہ ضروری ہے کہ جب فرشتے مٹی لینے زمیں پہ آئے تو زمیں چیخی چلائی تھی، یہ بھی روایات ہیں کہ باری باری سب مقرب فرشوں کو حکم ملا تھا مٹی لانے کا ، مگر زمیں کی التجاوْں،چیخ و پکار پہ رحم آگیا، مگر جب حضرت عزائیلؑ کو حکم ملا تو انہوں زمیں کی چیخ و پکار پہ توجہ نہیں دی اور مٹی لے کر آ گئے۔اس پتلے کی مٹی میں بہت سارے باقی اجزاء، آگ، ہوا، پانی وغیرہ بھی مناسب مقدار میں رکھے گئےبعض روایات میں ہے کہ حضرت آدمؑ کا پتلہ حضرت جبرائیلؑ نے بحکمِ ربی تیار فرمایا، بعض روایات میں یہ ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ نے خود تخلیق فرمائی۔۔{و اللہ اعلم بالصواب}

پتلا تخلیق فرما کر زمیں پہ بھیج دیا گیا۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت آدمؑ کا پتلا جب تخلیق ہوا تو عالمِ وجود میں آتے ہی رونے لگ گیا اور مسلسل گریہ زاری کرتا رہا۔ابلیس نے ایک دن پتلے اندر جا کر اندرونی اور بیرونی ساخت معلوم کی، اندرونی بھید اور راز معلوم کئے، مگر دل کے اندر تک نہ پہنچ سکا، دل سر بہ مہر تھا، ابھی اسکے اندر کیا بھید تھا یا راز تھا یہ سوائے ذاتِ باری تعالٰی کسی کو علم نہ تھا۔ ابلیس نے گمان کیا کہ یہی وہی نائب ہو گا،جسے میرے اوپر فوقیت ہو گی، اس خیال سے ابلیس نے حقارت سے پتلے کے اوپر تھوک دیا۔{بعض روایات میں اس واقعے کاروح پھونکنے کے بعد کا ذکر ہے}حضرت آدمؑ کا یہ پتلا زمیں پہ بھیج دیا گیا زمیں پہ یہ پتلا کم و بیش چالیس سال تک پڑا رہا اور گریہ زاری کرتا رہا۔ کم و بیش چالیس سال بعد پتلا واپس عرش{جنت} پہ لایا گیا۔

اللہ پاک نے سب ملائکہ، مقربین کو اکٹھا فرمایا ، عرش کے سایہ میں جب سب جمع ہوئے تو حضرت آدمؑ کا پتلا لایا گیا اور روح کو حکم دیا گیا کہ اس میں داخل ہو جا۔ روحِ آدم اندر داخل ہونے سے جھجکی ،چلائی کہ اس اندھیر کوٹھڑی میں آپ ذاتِ الٰہی مجھے قید نہ کریں، مگر اچانک اسے اندرقلبِ آدمؑ میں کچھ نظر آیا تو”لا اله الله محمد رسول الله” پڑھتی ہوئی اندر داخل ہو گئی۔

پتلہ نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں تو{بعض روایات کے مطابق آنکھیں کھولتے ہی حضرت آدمؑ کو چھینک آئی تھی تو انہوں نے کہا تھا شکر “الحمد للہ رب العالمین”پڑھا تھا} حضرت آدمؑ کی نظر عرش کے ماتھے پہ پڑی، انہیں “لا اله الله محمد رسول الله” لکھا نظر آیا۔۔

عرش کے ماتھے پہ کلمہ طیبہ پڑھ کے حضرت آدمؑ نے بارگاہِ الٰہی میں سوال کیا کہ اے پروردگارِ یہ کون خوش نصیب ہیں جن کا نام آپ کے نام کے ساتھ جڑا ہوا ہے؟۔جواب ملا کہ” اے آدمؑ یہ نام نبی آخرالزمانﷺ کا ہے آپ کی اولاد میں سے ہوں گے، جب سب اولادِ آدم گناہوں کی پاداش میں ہمارے فیصلہ کا انتظار کر رہی ہو گی یہ سفارش فرمائیں گے میں ان کی سفارش قبول کروں گا اور گناہوں کو بخش دوں گا”۔

ابلیس چوں کہ روح کی آمد سے پہلے ایک بار پتلہ میں گھس چکا تھا، اثرات تو باقی تھے۔حضرت آدمؑ کے دل میں خیال آنا ہی چاہا کے “حیرت ہے کہ بیٹا ﷺ باپؑ کی سفارش کرے گا، اس حساب سے تو میرا درجہ کم ہوا۔۔۔” ابھی یہ خیال آ ہی رہا تھا کہ اللہ پاکﷻ نے حضرت جبرائیلؑ کو حکم دیا کہ “حضرت آدمؑ کے سینہ سے فورّا اس فاسد خیال کو رفع کرو،ورنہ یہی وسوسہ انؑ کی تباہی کا سبب بن جائے گا”حضرت جبرائیلؑ نے اسی وقت حضرت آدمؑ کے سینہ مبارک سے اس خیالِ فاسدہ کا غالب حصہ نکال کے بہ احتیاطِ خاص بحکم ربی،بہ مشیتِ الٰہی جنت کے ایک حصہ میں دفن کریا۔جس جگہ یہ خیالِ فاسدہ کا غالب حصہ دفن کیا گیا تھا اس جگہ ایک پودا نمودار ہوا{موجودہ گیہوں،گندم، ملتا جلتا} جس کے بارے میں حکم دیا گیا کہ {یہ بعد کا واقعہ ہے} ” وَ لَا تَقۡرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۵﴾خیالِ فاسدہ کے اثرات/بقیہ حصہ جو قلبِ آدمؑ میں رہ گیا تھا اس نے “نفسِ امارہ” کی صورت اختیار کر لی،جو انسان کے ساتھ ہے،جب کوئی وسوسہ،خیالِ گناہ، ارادہِ گناہ ہوتا ہے تو ابلیس اس نفسِ امارہ کے ساتھ مل جاتا ہے، اسے تقویت دیتا ہے۔۔

روح ڈالنے کے بعد فرشتوں کو حکم ہوا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو کیوں کہ یہ ہمارا خلیفہ ہے۔ سب سجدے میں گرگئے۔ وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اَبٰی وَ اسۡتَکۡبَرَ ٭۫ وَ کَانَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۳۴﴾بعض روایات کے مطابق پہلے مقرب فرشتوں نے باری باری سجدہ کیا تھا۔سب سے پہلے جبرائیلؑ،،پھر میکائیلؑ پھراسرافیلؑ پھر عزرائیلؑ نے اللہ پاکﷻ کے حکم کی تعمیل کہ پھر سب ملائکہ،سب فرشتوں نے سجدہ کیا، یہ سجدہ سوسال (100) طویل سجدہ تھا۔ابلیس نے سجدہ نہیں کیا اور کھڑا رہا۔بارگاہِ الہیہ سے سوال ہوا کہ ” اے ابلیس! سجدہ کیوں نہیں کیا؟”(یہ نیا نام۔۔۔۔ اس سے پہلے تک عزازیل ہی تھا)ابلیس نے جواب دیا ” اے عظمت دینے والےﷻ!میں آدمٔ کو کیوں سجدہ کروں میں اس سے بہترہوں آدمؑ مٹی سے بنایا گیا ہے، جب کہ میں آگ سے، میں اس سے بہتر ہوں “اتنا کہنا ہی تھا کہ ابلیس کی ہئیت بدلنی شروع ہو گئی،خلعتِ آسمانی{آسمانی لباس} چھن گیا،لعنت اور رسوائی کا لباس ابلیس کے بدن پر زیب ہو گیا، گلے میں لعنت کا طوق، جو نور، خوشبو عطا ہوا تھا چھن گیا،اس کی جگہ غلاظت’ تعفن،ہیبت ناکی مل گئی۔فرشتوں نے جب حضرت آدمؑ کو سجدہ سے سر اٹھا کے ابلیس کی حالت دیکھی تو دوبارہ سجدے میں گر گئے{بعض علمائے کرام نماز میں موجود دوسرے سجدہ کو ،اِسی سجدہ کی یادگار قرار دیتے ہیں”

گزشتہ قسط میں ابلیس کے تھوکنے کا بھی سرسری سا ذکر کیا تھا۔ بعض علمائے کرام، مفسرین کے مطابق ابلیس نے حضرت آدم کے پتلے پہ تھوکا تھا، بعض کے مطابق ابلیس قرار دئیے جانے کے بعد۔جب ابلیس نے حضرت آدمؑ(کے پتلہ) پہ تھوکا تو اسی وقت جبرائیلؑ کو حکم ہوا کہ اتنا حصہ علحدہ کر کے اس سے کتا بنا دو، چنانچہ مقامِ ناف (ناف کا نشان وہی یادگار ہے) سے تھوک والا حصہ جدا کر کے کتا تخلیق کر دیا گیا۔ کتے کو انسان سے رغبت اس لئیے ہے کہ اسی کی مٹی سے ہی بنا ہے،اسی کو وجود سے ہی،رات کو جاگتا اس لئیے ہے کہ ہاتھ جبرائیلؑ کے لگے ہیں۔۔۔۔۔
وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ اَبٰی وَ اسۡتَکۡبَرَ ٭۫ وَ کَانَ مِنَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۳۴﴾
“اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدہ میں گر پڑے مگر شیطان، اس نے نہ مانا اور تکبر کیا اور تھا وہ کافروں میں کا{وہ انکار کرنے والوں میں سے ہو گیا}”۔

اس کے بعد اللہ پاک نے فرشتوں پر حضرت آدمؑ کی فضیلت جتائی، جیسے کہ قرآن پاک میں ہے کہ وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمۡ عَلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ ۙ فَقَالَ اَنۡۢبِـُٔوۡنِیۡ بِاَسۡمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۱﴾ “اور سکھلا دیے اللہ نے آدم کو نام سب چیزوں کے پھر سامنے کیا ان سب چیزوں کو فرشتوں کے پھر فرمایا بتاؤ مجھ کو نام ان کے اگر تم سچے ہو”

قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ لَا عِلۡمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳۲﴾ “بولے پاک ہے تو ہم کو معلوم نہیں مگر جتنا تو نے ہم کو سکھایا بیشک تو ہی ہے اصل جاننے والا حکمت والا”

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنۡۢبِئۡہُمۡ بِاَسۡمَآئِہِمۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَنۡۢبَاَہُمۡ بِاَسۡمَآئِہِمۡ ۙ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ غَیۡبَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ وَ اَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَ مَا کُنۡتُمۡ تَکۡتُمُوۡنَ ﴿۳۳﴾ “فرمایا اے آدم بتا دے فرشتوں کو ان چیزوں کے نام پھر جب بتا دیے اس نے ان کے نام فرمایا کیا نہ کہا تھا میں نے تم کو کہ میں خوب جانتا ہوں چھپی ہوئی چیزیں آسمانوں کی اور زمین کی اور جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو”

کئی مفسریں اور علماء کے مطابق یہ واقعات حضرت آدم کو سجدہ سے پہلے کے ہیں۔قرآن پاک میں بھی اسی ترتیب سے آیاتِ مبارکہ کا تسلسل ہے۔ میرا موضوع ابلیس کی تاریخ تھی اس لئیے چیدہ چیدہ واقعات پہ ہی اکتفا کیا ہے۔

بشری ناطے سے مجھ سے کوئی غلطی،تقصیر یا بے ادبی ہو جائے تو میں اللہ پاک کے حضور توبہ کرتا ہوں اور اس کی رحمت اور فضل کی پناہ چاہتا ہوں {واللہ اعلم بالصواب} راندہِ درگاہ قرار پانے کے بعد ابلیس کو سو سال تنگ و تاریک جگہ پہ قید رکھا گیا {بعض مفسرین کا اختلاف ہے، تاہم واقعات کا تسلسل برقرار رکھنے کِلئے ترتیب وار لکھ دیا ہے}۔قیدِ تنہائی سے سو{100} سال باہر نکالا گیا اس کی شکل بری طرح مسخ ہو چکی تھی۔ سب سے پہلے تمام مقرب فرشتوں نے ابلیس پر لعنت کی،پھر باقی سب فرشتوں،کل ملائکہ، ہفت اقلیم سب نے ابلیس پہ لعنت بھیجی۔

ابلیس اپنی ضد پہ ڈٹا رہا کہ میں آدمؑ سے بہتر ہوں۔ اے اللہ پاک آپﷻ نے میرے مقدر میں یہ سب لکھ دیا تھا، میں نے ایسے کرنا تھا۔ جواب میں ارشاد ہوتا رہا کہ نہیں ابلیس تیری خطا ہے، غلطی ہے کہ تم نے ہمارے حکم سے روگردانی کی۔ مگر ابلیس اپنی بات پہ ڈٹا رہا کہ میرے نصیب میں مقدر میں ایسا لکھا گیا تھا میں کیسے فرار ہو سکتا تھا۔ پس ابلیس ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے مردود اور لعین قرار پایا۔

قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا لَكَ أَلاَّ تَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ ﴿۳۲﴾ قَالَ لَمْ أَكُن لِّأَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ ﴿۳۳﴾ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ﴿۳۴﴾ وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ ﴿۳۵﴾ قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ﴿۳۶﴾ سوره ۱۵: الحجر

ابلیس کی خواہشیں : ابلیس نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی کہ اگر میں راندہِ دراگہ ہی ٹھہرا تو میری یہ یہ خوہشیں پوری کی جائیں۔{ بعض علماء/مفسرینِ کرام کے نزدیک ابلیس نے اپنی عبادت اور ریاضت کا صلہ میں یہ خواہشیں کی تھیں کہ آپ کا وعدہ ہے کہ نیکیوں کا اجر ضرور دیں گے، میں یہ اجر دنیا میں ہی چاہتا ہوں}

1۔پہلی عرض یہ کہ مجھے اس وقت تک موت نہ آئے جب تک اولادِ آدمؑ کاآخری فرد بھی زمین سے نہ اٹھا لیا جائے{تا قیامت}حکم ارشاد ہواکہ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ ﴿۳۷﴾إِلَى يَومِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ﴿۳۸﴾ سوره ۱۵: الحجر تا قیامت موت سے مہلت

2۔ ابلیس نے دوسری خواہش کی کہ مجھے طاقت دے کہ میں تیرے بندوں کو راہِ حق سے بھٹکاوْں،بہکاوْں۔ ارشاد ہو کہ تیری یہ خواہش بھی پوری ہوئی مگر میرے نیک بندوں پہ تیرا داوْ نہ چل سکے گا۔ تیرا فریب ان پہ ہی چل سکے گا جو اس بات کی خامی رکھتے ہوں گے ان کے لئیے ہم نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

3۔ابلیس نے تیسری خوہش یہ کی کہ میری اولاد بہت ہی زیادہ ہو {اور ان کی طویل عمریں ہوں } تا کہ میں اور میرا قبیلہ تیرے بندوں کو بھٹکائے ، بارگاہِ الٰہی سے ابلیس کی یہ خواہش بھی پوری ہوئی۔

4۔ ابلیس کی چوتھی خواہش یہ تھی کہ میں میں جو رنگ روپ،شکل صورت ،ہیئت چاہوں اختیار کر سکوں۔ارشادِ الہی ہوا کہ تیری ہی خوہش بھی پوری کی مگر تو کبھی بھی نبی آخرالزماں محمد مصطفیٰﷺ کی صورت کبھی اختیار نہ کر سکے گا جسے میں آخر زمانہ میں پیدا کرنے والا ہوں۔

IBLEES


اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں