5,220

کوئی مرتا ہے تو حیرت نہیں ہوتی مجھ کو

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو
زخم کھلتے ہیں اذیت نہیں ہوتی مجھ کو

اب کوئی آئے چلا جائے میں خوش رہتا ہوں
اب کسی شخص کی عادت نہیں ہوتی مجھ کو

ایسا بدلا ہوں ترے شہر کا پانی پی کر
جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی مجھ کو

ہے امانت میں خیانت سو کسی کی خاطر
کوئی مرتا ہے تو حیرت نہیں ہوتی مجھ کو

تو جو بدلے تری تصویر بدل جاتی ہے
رنگ بھرنے میں سہولت نہیں ہوتی مجھ کو

اکثر اوقات میں تعبیر بتا دیتا ہوں
بعض اوقات اجازت نہیں ہوتی مجھ کو

اتنا مصروف ہوں جینے کی ہوس میں شاہدؔ
سانس لینے کی بھی فرصت نہیں ہوتی مجھ کو

کوئی مرتا ہے تو حیرت نہیں ہوتی مجھ کو

Aisa Badla Hun Tery Sheher Ka Pani Pee Kar
Jhoot Bolun To Nadamat Nahin Hoti Mujh ko

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں