854

نہیں نگاہ میں منزل– فیض احمد فیض

نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی

نہ تن میں‌ خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں
نمازِ شوق تو واجب ہے بے وضو ہی سہی

کسی طرح تو جمے بزم میکدے والو
نہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہو ہی سہی

گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دل
کسی کے وعدہء فردا کی گفتگو ہی سہی

دیارِ غیر میں محرم اگر نہیں کوئی
تو فیض ذکرِ وطن اپنے روبرو ہی سہی

فیض احمد فیض

Nahin Nigah Mein Manzil To Justaju Hi Sahi
Nahin Wisaal Miyasar To Aarzu Hi Sahi

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں