1,960

لذتوں کو ختم کرنے والی موت

لذتوں کو ختم کرنے والی
موت
کو کثرت سے یاد کیا کرو

بے شک موت اس قابل ہے کہ اس کو یاد کیا جائے۔معیارِ زندگی، مال اور صحت کے برعکس موت ایک یقینی امر ہے۔یہ اس دنیا عارضی زندگی سے ہمیشہ کی آخرت کی زندگی کے طرف سفر کا آغاز ہے۔اللہ سبحان وتعالٰی نے فرمایا،

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَـمَةِ فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَما الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلاَّ مَتَـعُ الْغُرُورِ
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤ گے۔پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے (آل- عمران:۱۸۵)

اس کے علاوہ موت کو دھوکہ دینا،اس کو ٹال دینا یا بچ نکلنا ناممکن ہے۔ہر ذی روح اللہ تعالی کے مقرر کردہ وقت پر مر جائے گی۔ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا،

إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ فَلاَ يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَ يَسْتَقْدِمُونَ
جب ان کا معین وقت آپہنچتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے سرک سکتے ہیں (یونس:۴۹)۔

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ الله كِتَـباً مُّؤَجَّلاً
بغیر اللہ تعالٰی کے حکم کے کوئی جاندار نہیں مر سکتا،مقرر شدہ وقت لکھا ہوا ہے (آل-عمران:۱۴۵)۔

رسول اللہ ﷺ ہمیشہ موت کے لیے تیار رہتے تھے۔ ابو بکررضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ آپ ﷺ سے کہا،”یا رسول اللہ ﷺ! آپ کے بال سلیٹی رنگت کے ہو گئے ہیں”۔آپ ﷺنے فرمایا،

شَيَّبَتْنِي هُودٌ وَالْوَاقِعَةُ وَالْمُرْسَلَاتُ وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَت
”میرے بالوں کی سلیٹی رنگت کی وجہ (سورۃ)ہوداور واقعہ اور مرسلات اور عم یتسا ء لون اور اذا الشمس کورت’ ہیں”(الترمذی:۳۲۱۹)۔

نبی ﷺ نہ صرف خود موت کو یاد کرتے تھے اور اس کے لئے تیار تھے بلکہ انہوں نے ہمیں بھی اس کو یاد کرنے اور اس کی تیاری کرنے کی تلقین کی۔اسی لئے آپ ﷺ نے قبروں پر جانے اور مُردوں کے لئے دعا کرنے پر زور دیا کیونکہ یہ بہترین یاد دہانی اور بہترین سرزنش ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا،

أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ يَعْنِي الْمَوْتَ
”اس چیز کو کثرت سے یاد کرو جو تمام لذتوں کو ختم کرنے والی ہے”(الترمذی:۲۲۲۹)۔

Lazatoon Ko Khatam Karnay Wali Mout Ko Kasrat Say Yaad Karo

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں